ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں مُورین کٹے معاملے پر کانگریس کا بی جے پی پر ’اشتعال انگیز سیاست‘ کا الزام؛ 1993 جیسے حالات کا حوالہ دینا غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک

بھٹکل میں مُورین کٹے معاملے پر کانگریس کا بی جے پی پر ’اشتعال انگیز سیاست‘ کا الزام؛ 1993 جیسے حالات کا حوالہ دینا غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک

Tue, 26 May 2026 21:27:03    S O News
بھٹکل میں مُورین کٹے معاملے پر کانگریس کا بی جے پی پر ’اشتعال انگیز سیاست‘ کا الزام؛ 1993 جیسے حالات کا حوالہ دینا غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک

بھٹکل 26 مئی (ایس او نیوز) : کانگریس نے منگل کے روز بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ بھٹکل میں مُورین کٹے اور اس سے قبل گرووِن کٹے (ناگبنا) معاملے کو مذہبی اور جذباتی رنگ دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کانگریس نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے بیانات فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔

بھٹکل کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاک کانگریس صدر وینکٹیش نائک نے کہا کہ مُورین کٹے ہندوؤں کا ایک مذہبی عقیدت کا مقام ہے، لیکن بی جے پی قائدین عوامی جذبات کو بھڑکا کر انتخابی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’اگر کانگریس حکومت یا ضلع انچارج وزیر منکال ویدیا مُورین کٹے کی ازسرنو تعمیر کے خلاف ہوتے تو تحصیلدار کی موجودگی میں وہاں تعمیراتی کام نہیں ہوتا۔‘‘

وینکٹیش نائک نے کہا کہ جب نیشنل ہائی وے کی توسیعی منصوبہ بندی کے دوران مُورین کٹے کو ہٹایا گیا تھا، اُس وقت ریاست اور مرکز دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت تھی۔ اُنہوں نے الزام لگایا کہ اُس وقت کے رکن اسمبلی سنیل نائک نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن اب سیاسی فائدے کے لئے کانگریس اور وزیر کے خلاف الزامات لگائے جارہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے تعمیر کیا گیا متبادل ڈھانچہ بعد میں شرپسند عناصر نے منہدم کردیا، جس پر وزیر منکال ویدیا نے خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔

اولڈ بس اسٹائنڈ پر واقع ناگبنا معاملے پر بھی بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وینکٹیش نائک نے کہا کہ کانگریس حکومت نے ہی ناگبنا کی ترقی کے لئے فنڈ منظور کیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جو لوگ پہلے چار گنٹہ زمین کا مطالبہ کررہے تھے، انہوں نے اپنے دور اقتدار میں صرف آدھا گنٹا زمین پر ہی ترقیاتی کام کیوں کروایا؟

کانگریس لیڈر نے بی جے پی لیڈر گووند نائک کے اُس بیان کی بھی سخت مذمت کی جو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوا ہے اور اُس وڈیو  میں گوند نائک کو یہ دھمکی دینے والے انداز میں  کہتے سنا جاسکتا ہے  کہ بھٹکل میں 1993 جیسے حالات دوبارہ پیدا ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’1993 کے فسادات جیسے واقعات کا حوالہ دینا ذمہ دارانہ سیاست نہیں ہے۔ اس طرح کے بیانات اشتعال انگیز اور خطرناک ہیں۔ فرقہ وارانہ تصادم میں سیاسی لیڈروں کے بچے نہیں بلکہ غریب اور عام خاندانوں کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔‘‘

وینکٹیش نائک نے یہ الزام بھی لگایا کہ حالیہ  شرالی ندی میں پیش آئے  حادثے  میں، جس میں 11 افراد ہلاک ہوگئے تھے، اُس موقع پر بھی بی جے پی کارکنان نے وزیر منکال ویدیا کے خلاف نعرے بازی کی، جو غیر انسانی اور افسوسناک عمل تھا۔

انہوں نے کہا، ’’وزیر نے اپنے تمام طے شدہ پروگرام منسوخ کرکے اسپتال پہنچ کر متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی، لیکن اس افسوسناک موقع پر بھی سیاست کی گئی۔‘‘

انہوں نے سابق رکن اسمبلی سنیل نائک کو مندروں کی ترقی، تعلیم اور عوامی فلاحی کاموں پر کھلے مباحثے کا چیلنج دیتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی مذہبی جذبات کو بھڑکا کر ووٹ حاصل کرنے کی سیاست کرتی رہی ہے۔

پریش میستا معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اُس وقت بھی غلط معلومات پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، اور سوال کیا کہ آخر اُس خاندان کے لئے پارٹی نے عملی طور پر کیا کیا؟

انہوں نے نیٹ امتحان سے متعلق مبینہ ناکامیوں کے سبب طلبہ کی خودکشی کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ بھی کیا۔

پریس کانفرنس میں ضلع کانگریس نائب صدر راما موگیر، بلاک کانگریس جنرل سکریٹری سریش نائک، نارائن نائک، ٹی ڈی نائک، رمیش نائک، گارنٹی اسکیمس کمیٹی کے صدر راجو نائک، سدھا نائک، نینا نائک، جے شری موگیر، منجوناتھ نائک، بھاسکر موگیر سمیت کئی دیگر افراد موجود تھے۔


Share: