بھٹکل 17 جون (ایس او نیوز): جنوبی اور وسطی ہندوستان میں داخل ہو کر ابتدائی طور پر بڑی امیدیں پیدا کرنے والا جنوب مغربی مانسون، جو ملک کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، اچانک کمزور پڑ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے اعداد و شمار اور حالیہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ملک بھر میں مانسون کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
17 جون 2026 تک ملک کے کئی حصوں میں بارش معمول سے کم ریکارڈ کی جا رہی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں طویل خشک وقفے بھی دیکھے جا رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 4 جون سے 15 جون کے درمیان پورے ملک میں اوسطاً 53.7 ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی، تاہم اس دوران صرف 19.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح مجموعی طور پر 64 فیصد تک بارش کی شدید کمی سامنے آئی ہے، جس نے زرعی سرگرمیوں اور فصلوں ک بوائی کے موسم پر منفی اثرات کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
ادھر محکمہ موسمیات کے INSAT-3DS سیٹلائٹ کے 17 جون کے مشاہدات میں مانسون کی کمزوری کی واضح تصویر سامنے آئی ہے۔ عام طور پر اس وقت جزیرہ نما جنوبی اور وسطی ہندوستان گھنے مانسون بادلوں سے ڈھکا ہوتا ہے، تاہم موجودہ تصاویر میں یہ علاقے تقریباً مکمل طور پر بادلوں سے خالی دکھائی دے رہے ہیں۔
سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق بادلوں کی سرگرمیاں زیادہ تر ہمالیائی خطے، شمال مشرقی ہندوستان اور گنگا کے شمالی حصوں تک محدود ہو گئی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مانسون کا مسلسل بادلوں کا نظام (کلاؤڈ بیلٹ) ٹوٹ چکا ہے۔
ساتھ ہی بحیرہ عرب سے آنے والی مانسون ہوائیں بھی انتہائی کمزور ہو گئی ہیں، جس کے باعث جنوبی اور وسطی علاقوں میں بارش کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق جون کے وسط تک کئی ریاستوں میں بارش میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ بعض علاقوں میں معمولی بارش ضرور ریکارڈ ہوئی ہے، تاہم وہ مانسون کے باقاعدہ نظام کے بجائے مقامی موسمی سرگرمیوں کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔ مہاراشٹر کے ودربھ اور پونے جیسے علاقوں میں مانسون کی تاخیر نے کھاد اور بوائی کے سیزن کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دالوں اور خریف فصلوں کی کاشت پر منفی اثرات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
سیٹلائٹ ڈیٹا اور موسمی تجزیوں میں بھی مانسون کی کمزوری واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بحیرہ عرب سے آنے والی مانسون ہواؤں کی کمزوری کے باعث نمی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے بڑے زرعی علاقوں میں آئندہ دو ہفتوں کے دوران بارش اوسط سے کم رہنے کا امکان ہے۔ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ مغربی ہواؤں اور فضائی دباؤ کے نظام میں تبدیلی بھی بتائی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے ابتدائی اندازوں کے مطابق اس سال مجموعی بارش اوسط سے کم رہنے کا خدشہ پہلے ہی ظاہر کیا جا چکا ہے، جس میں ایل نینو جیسے موسمی عوامل کو اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹوں کے مطابق جون کے دوران ہی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے اور بارش میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ہیٹ ویو اور خشک سالی جیسے خطرات بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔