نئی دہلی، 6 جون (ایس او نیوز): سوشل میڈیا پر غیرمعمولی مقبولیت حاصل کرنے والی "کاکروچ جنتا پارٹی" (CJP) نے ہفتہ کے روز دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر اپنا پہلا بڑا عوامی احتجاج منعقد کیا۔ اس احتجاج کی قیادت تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کی، جو دو سالہ قیام کے بعد امریکہ کے شہر بوسٹن سے بھارت پہنچے تھے۔ احتجاج میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے نوجوانوں، طلبہ اور روزگار کے متلاشی افراد نے شرکت کی۔ یہ تحریک گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا پر تیزی سے ابھری اور لاکھوں نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
احتجاج کا مرکزی مطالبہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کا استعفیٰ تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مختلف قومی سطح کے امتحانات میں پرچہ لیک، نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بھرتی کے عمل میں شفافیت کے فقدان نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ احتجاج کے شرکاء نے حکومت سے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کا بھی مطالبہ کیا۔
ابھیجیت دیپکے جب دہلی ایئرپورٹ پہنچے تو ان کے حامیوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ بعد ازاں وہ سیدھے جنتر منتر پہنچے جہاں انہوں نے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنی آزادی کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں، لیکن نوجوانوں کے مستقبل کے سوال پر خاموش نہیں رہیں گے۔
احتجاج کے دوران کئی مظاہرین نے کاکروچ کے ماسک اور علامتی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں۔ بعض نوجوان ہاتھوں میں پھول لے کر پہنچے اور تحریک کی جانب سے شرکاء کو پرامن رہنے کی تلقین کی گئی۔ جنتر منتر اور اطراف کے علاقوں میں دہلی پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی جبکہ مختلف مقامات پر رکاوٹیں بھی لگائی گئیں۔
اس احتجاج کے بعد سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ تاہم دہلی پولیس نے ان خبروں کو باضابطہ طور پر غلط قرار دیا اور وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر احتجاج کے سلسلے میں کسی بھی مظاہر کے خلاف کوئی FIR درج نہیں کی گئی۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر بھروسہ کریں۔
پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران چھ افراد کو احتیاطی اقدام کے طور پر مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا تھا تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے، تاہم ان کے خلاف بھی کسی مقدمے کے اندراج کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس وضاحت کے بعد FIR اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں سے متعلق افواہیں دم توڑ گئیں۔
احتجاج کے اختتام پر ابھیجیت دیپکے نے حکومت کو سات دن کی مہلت دیتے ہوئے دھرمندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو تحریک کو ملک گیر سطح پر وسعت دی جائے گی اور مختلف ریاستوں میں احتجاجی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی محض ایک آن لائن مہم نہیں رہی بلکہ نوجوانوں کے غصے اور بے چینی کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، امتحانی تنازعات اور روزگار کے محدود مواقع جیسے مسائل نے اس تحریک کو غیرمعمولی مقبولیت دلائی ہے۔ اگرچہ حکمراں جماعت بی جے پی نے اس کی سیاسی اہمیت کو کم کرکے پیش کیا ہے، تاہم اس احتجاج نے ثابت کیا کہ سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی یہ مہم اب زمینی سطح پر بھی اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔