نئی دہلی 25 جولائی (ایس او نیوز): مرکزی حکومت اور امتحانی اصلاحات کی تحریک کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے درمیان جاری مذاکرات میں ابھی تک کوئی فیصلہ کن پیش رفت نہیں ہو سکی۔ جمعہ کو ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات کے بعد بھی مرکزی حکومت نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے یا برطرفی پر کوئی یقین دہانی نہیں کرائی، جبکہ سی جے پی نے واضح کیا ہے کہ یہ اس کا "ناقابلِ سمجھوتہ" مطالبہ ہے اور اس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جائے گا۔
تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں حکومت کی نمائندگی مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا اور وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کی، جبکہ سی جے پی کی جانب سے قومی ترجمان سوربھ داس اور آشوتوش رانکا شریک ہوئے۔ مذاکرات کے بعد جے پی نڈا نے بتایا کہ سی جے پی نے تین بنیادی مطالبے اور امتحانی نظام میں اصلاحات سے متعلق پانچ تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت ان تجاویز پر اندرونی مشاورت کے بعد اگلے دور میں اپنا باضابطہ مؤقف پیش کرے گی۔
سی جے پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کا پہلا اور بنیادی مطالبہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ یا انہیں کابینہ سے ہٹایا جانا ہے۔ اس کے علاوہ نیٹ امتحان سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث جان گنوانے والے طلبہ کے خاندانوں کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے اور احتجاج میں شریک طلبہ کے خلاف درج تمام ایف آئی آر اور مقدمات واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت نے اصولی طور پر معاوضے اور مقدمات واپس لینے کے مطالبات پر مثبت رویہ اختیار کیا ہے، تاہم پردھان کے استعفے پر مزید وقت مانگا گیا ہے۔
قومی ترجمان سوربھ داس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر دھرمیندر پردھان اپنے عہدے پر برقرار رہتے ہیں تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان کے بقول، “استعفیٰ ہمارا ناقابلِ سمجھوتہ مطالبہ ہے، اور اگر حکومت نے اس پر فیصلہ نہ کیا تو ملک گیر احتجاج کو مزید وسیع کیا جائے گا۔”
دوسری جانب حکومت کے اعلیٰ ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ مرکز دھرمیندر پردھان کو ہٹانے کے حق میں نہیں ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق حکومت اور حکمراں جماعت دونوں وزیر تعلیم کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور کسی سیاسی دباؤ میں انہیں تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اسی وجہ سے مذاکرات کا سب سے اہم نکتہ بدستور تعطل کا شکار ہے۔ تاہم سی جے پی کا مؤقف ہے کہ صرف اصلاحات کافی نہیں بلکہ سیاسی جوابدہی بھی ضروری ہے، اسی لیے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ناگزیر ہے۔
ادھر اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی احتجاجی طلبہ کی حمایت جاری رکھتے ہوئے مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ راہل گاندھی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کو طاقت سے دبانے کے بجائے طلبہ کے مطالبات سننے چاہئیں اور امتحانی بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی ہونی چاہیے۔
اب تمام نظریں مذاکرات کے اگلے دور پر مرکوز ہیں۔ اگر حکومت دھرمیندر پردھان کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرتی تو سی جے پی نے ملک گیر احتجاج مزید تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ حکومت امتحانی اصلاحات کے ذریعے بحران ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یوں دونوں فریقوں کے درمیان اصل اختلاف اب صرف ایک نکتے، یعنی وزیر تعلیم کے استعفے، پر سمٹ گیا ہے۔