کولکاتہ /نئی دہلی ، 17/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہفتہ کی رات ہونے والی بھگدڑ کے افسوسناک واقعے میں کم از کم 18 افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حادثے کے بعد ریلوے انتظامیہ نے اسٹیشن پر سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس حادثے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن ساکیت گوکھلے نے وزیر ریل اشونی ویشنو کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’بھگدڑ کے کئی گھنٹوں بعد تک ریلوے نے اس واقعے سے انکار کیا اور اسے محض ’افواہ‘ قرار دیا، یہ حقائق کو چھپانے کی ایک بے شرمانہ کوشش تھی۔ جب لاشیں ملنے لگیں تب جا کر اعتراف کیا گیا۔‘‘
ٹی ایم سی کی سینئر رہنما ساگریکا گھوش نے بھی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی پہلے بھگدڑ سے انکار کرتی رہی، پھر اسے افواہ قرار دیا، پھر زخمیوں کی موجودگی تسلیم کی، اور آخر میں مجبور ہو کر اموات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی کی حکومت ہمیشہ ایسی ہولناک اموات کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کا یہ واقعہ بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔‘‘
ٹی ایم سی رہنماؤں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ وہ فوراً اشونی ویشنو کو برطرف کریں۔ گوکھلے نے کہا، ’’اگر وزیر ریل کو ذرا بھی ذمہ داری کا احساس ہے تو انہیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اگر وزیر اعظم مودی کو عوام کی جانوں کی کوئی پرواہ ہے تو انہیں وزیر ریل کو فوری برطرف کرنا چاہیے۔‘‘
حادثے کے بعد ریلوے حکام نے اسٹیشن پر سیکورٹی کے سخت اقدامات کیے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اس حادثے کی وجوہات کا جائزہ لے گی اور حفاظتی اقدامات میں بہتری کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔