بنٹوال، 5 / مارچ (ایس او نیوز) فرنگی پیٹ میں 10 ویں سنگ میل کے قریب نیتراوتی ندی کے کنارے آدھار کارڈوں کا ڈھیر پایا گیا جس سے مقامی لوگوں میں شکوک اور تشویش کی لہر پیدا ہوگئی ۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق منگل کی شام کو ایک مقامی باشندے نے ندی کے کنارے پانی میں کئی آدھار کارڈ تیرتے ہوئے دیکھے اور فوری طور پر گرام پنچایت افسران کو اس کی اطلاع دی ۔ جس کے بعد گرام پنچایت صدر راملن ماری پلا اور دیگر عہدیداروں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور دستاویزات کا معائنہ کیا ۔
جانچ کرنے پر پتہ چلا کہ ندی میں پھینکے گئے آدھار کارڈوں پر پڈو گاؤں کے رہائشیوں کے پتے تھے ۔ اس واقعے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ سرکاری دستاویزات نیتراوتی ندی میں کیسے چلے گئے؟
اس مسئلے کا جواب دیتے ہوئے گرام پنچایت صدر نے کہا کہ بہت سے گاؤں والوں نے اپنے آدھار کارڈ میں تصحیح اور اپ ڈیٹ کے لیے درخواست دی تھی اور وہ ڈاک کے ذریعے نظر ثانی شدہ کارڈ کے آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔ چونکہ کارڈز آنے میں تاخیر ہوئی تھی اس لئے کئی لوگوں نے اپنی فوری ضروریات کے لیے مبینہ طور پر سائبر سینٹرز سے پرنٹ آؤٹ لے لیے تھے ۔
گرام پنچایت نے صدر نے بالواسطہ طور پر محکمہ ڈاک پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آدھار کارڈ آچکے تھے لیکن انہیں متعلقہ افراد میں تقسیم نہیں کیا گیا اور اس کے بجائے ندی کے کنارے پر لاکر پھینک دیا گیا ۔
دریا میں آدھار کارڈ پائے جانے سے لوگوں کے اندر کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے ۔ گاؤں والوں نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔