نئی دہلی ، 15/فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی اسمبلی انتخاب کے نتائج آئے ہوئے ایک ہفتہ گزرنے کو ہے، لیکن بی جے پی کی جانب سے ابھی تک وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس معاملے پر دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج آنے کے باوجود وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں تاخیر بی جے پی کے اندرونی اختلافات کو واضح کرتا ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ 8 تاریخ کے بعد جس طرح بی جے پی کا ہر تیسرا رکن اسمبلی وزیر اعلیٰ عہدہ کا دعویٰ کر رہا ہے، اس میں کہیں نہ کہیں 1993 والی بی جے پی کی دہلی حکومت کی تاریخ دکھائی دے رہی ہے، جب ایک ہی مدت کار میں تین وزرائے اعلیٰ بدل گئے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بی جے پی نظریہ سے عاری پارٹی ہے جس کے لیڈران کبھی ایک رائے پر متفق نہیں ہوئے، جبکہ ہم نے دہلی میں 15 سال ایک ہی قیادت میں شیلا دیکشت جی کو وزیر اعلیٰ بنا کر حکومت چلائی تھی۔
دیویندر یادو نے سوال اٹھایا کہ دہلی میں مکمل اکثریت کے بعد کیا بی جے پی موجودہ چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیونکہ بی جے پی کی مرکزی حکومت نے لوگوں سے کیے وعدے بلیک منی واپس لانے، 15 لاکھ اکاؤنٹ میں آنے، دو کروڑ ملازمتیں سالانہ دینے اور مہنگائی پر کنٹرول پانے میں پوری طرح سے اب تک ناکام رہی ہے۔ کیا مرکزی حکومت کی طرح دہلی میں بی جے پی کی حکومت بھی معصوم عوام کے ساتھ دھوکہ کرے گی؟ کیونکہ بی جے پی اور عآپ ہمیشہ ایک ہی سکہ کے دو پہلو ثابت ہوئے ہیں، جنھوں نے عوام مخالف سرگرمیوں اور پالیسیوں میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا ہے۔
دہلی میں بی جے پی حکومت تشکیل پانے میں ہو رہی تاخیر کے درمیان دیویندر یادو نے مزید کچھ سوالات قائم کیے ہیں۔ انھوں نے سوال کیا ہے کہ کیا وزیر اعلیٰ امیدوار کا انتخاب ہونے اور حکومت تشکیل دیے جانے کے بعد عوام کی پریشانیوں کو ختم کرنے میں بی جے پی کامیاب ہوگی؟ بی جے پی کی ہدایت پر اگلے 100 دنوں میں کام کرنے کی پالیسی تیار کر رہے افسر کیا دہلی کو بنیادی مسائل یعنی فضائی و آبی آلودگی، پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں بہتری، سڑکوں کی بدحالی، پینے کے پانی، سیور سسٹم، جمنا کی صفایئ، کوڑے کے پہاڑوں سے نجات دلانے میں کامیاب ہو پائیں گے؟ میں بی جے پی سے پوچھتا ہوں کہ کیا 11 سی اے جی رپورٹ کو اسمبلی کے ٹیبل پر رکھ کر منظر عام پر لائے گی؟