ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل نیشنل ہائی پر تنگن گنڈی کراس روڈ کی خستہ حالی؛ وزیر اعلیٰ کو ٹویٹ کرنے کے بعد جاری ہوا مرمت کا حکم - حرکت میں آگئی ٹی ایم سی

بھٹکل نیشنل ہائی پر تنگن گنڈی کراس روڈ کی خستہ حالی؛ وزیر اعلیٰ کو ٹویٹ کرنے کے بعد جاری ہوا مرمت کا حکم - حرکت میں آگئی ٹی ایم سی

Fri, 22 Aug 2025 18:29:59    S O News
بھٹکل نیشنل ہائی پر تنگن گنڈی کراس روڈ کی خستہ حالی؛ وزیر اعلیٰ کو ٹویٹ کرنے کے بعد جاری ہوا مرمت کا حکم - حرکت میں آگئی  ٹی ایم سی

بھٹکل 22 / اگست (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے 66 سے جڑنے والے تنگن گُنڈی کراس روڈ کی خستہ حالی کا معاملہ سوشیل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے ریاستی وزیر اعلیٰ کے علم میں آنے کے بعد فوری طور پر اس سڑک کی مرمت کے لئے وزیر اعلیٰ کے دفتر سے حکم جاری ہوا ہے جس کے بعد ٹاون مونسپل کاونسل حرکت میں آ گئی  ہے۔

ہیبلے گرام پنچایت کے رکن سید علی نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے سے جڑنے والی تنگن گنڈی روڈ کے ابتدائی حصے میں بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے بنائی گئی نالیوں میں ڈرینیج کا پانی چھوڑا جارہا تھا۔ اس کے نتیجے میں ڈرینیج کا گندا پانی بارش کے پانی کے ساتھ مل کر سڑک پر جمع ہورہا تھا۔ ایسے میں بارش کے باعث جگہ جگہ گڈھے پڑنے سے سڑک کی حالت مزید خستہ ہوگئی، یہاں تک کہ لوگوں کو بائک یا اسکوٹر پر سفر کرنے میں سخت دشواریاں پیش آنے لگیں۔ سید علی کے مطابق انہوں نے اس سڑک کی خستہ حالی کی تصاویر اور ویڈیوز وزیر اعلیٰ سدرامیا کے دفتر سمیت اُترکنڑا ڈپٹی کمشنر کے دفتر، ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا اور پی ڈبلیو ڈی وزیر ستیش جارکی ہولی کو ٹیگ کرتے ہوئے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر شیئر کیں۔

syedali-twitt

اس کے ردعمل میں وزیر اعلیٰ کے دفتر سے ٹی ایم سی کو ہدایت دی گئی کہ مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ ہدایت ملتے ہی بھٹکل میونسپالٹی حرکت میں آگئی اور ٹی ایم سی کے انچارج صدر، انچارج چیف آفیسر، انجینئر اور عملے نے جائے وقوع کا معائنہ کیا۔ اس دوران سید علی نے افسران کو بتایا کہ سڑک اور بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے بنائی گئی نالیوں میں اونچائی کے فرق کی وجہ سے پانی سڑک پر ہی جمع ہورہا ہے اور ایک بڑے حصے کو تالاب میں تبدیل کررہا ہے، جس سے راہگیروں اور گاڑی سواروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

جب نالیوں پر ڈھکی ہوئی کانکریٹ شیٹس ہٹا کر معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ آس پاس کے مکانوں سے بیت الخلا اور غسل خانوں کا پانی غیر قانونی طور پر برساتی نالیوں میں چھوڑا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ افسران نے یہ بھی پایا کہ سڑک کنارے تعمیرات کے باعث برساتی نالیاں بند ہوگئی ہیں، جس سے پانی کی نکاسی مزید متاثر ہورہی ہے۔ مزید یہ بھی پتہ چلا کہ برساتی نالے میں گھٹر کا پانی دیگر علاقوں میں جانے کے سبب پڑوسیوں نے اپنے حصے کے نالے بند کردیئے ہیں، جس کی وجہ سے سارا پانی سڑک پر بہہ رہا ہے۔

میونسپل انچارج صدر محی الدین الطاف کھروری نے بتایا کہ مسئلے کی سنگینی کا علم ہوتے ہی پی ڈبلیو ڈی اور نیشنل ہائی وے کے حکام کو بھی موقع پر بلایا گیا۔ ساتھ ہی سڑک کے دونوں کناروں پر بنی عمارتوں کے مالکان کو بھی طلب کرکے فوری حل کے تعلق سے بات چیت کی گئی۔

اس تناظر میں سڑک کی چوڑائی ناپنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ آیا چوڑائی سات میٹر ہے یا نہیں۔ بلدیہ کے افسران نے آس پاس کے مکینوں اور ہوٹل والوں کو سختی سے متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کا گندا پانی ان نالیوں میں چھوڑنے کا سلسلہ فوری بند کریں۔ انچارج چیف آفیسر وینکٹیش ناوڈا نے بتایا کہ تین دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ گھروں، دکانوں یا ہوٹلوں سے بہنے والا گندا پانی برساتی نالیوں سے ہٹا کر یا تو سیوریج ٹینک سے جوڑا جائے (جس کے لئے میونسپالٹی کو درخواست دی جاسکتی ہے) یا پھر پرائیویٹ طور پر سیفٹی ٹینک بناکر اس پانی کو وہاں منتقل کیا جائے۔ ان کے مطابق پیر کی صبح دوبارہ معائنہ کیا جائے گا اور اگر اس وقت تک گندے پانی کو نالیوں میں چھوڑنے کا سلسلہ بند نہ ہوا تو جرمانے کے ساتھ مزید کارروائی کی جائے گی۔

Click here for report in English

ناوڈا نے مزید کہا کہ جیسے ہی پانی کی نکاسی کا مسئلہ حل ہوگا، پی ڈبلیو ڈی کے ذریعے سڑک کی مرمت کا کام شروع کردیا جائے گا۔ ان کے مطابق گزشتہ پندرہ دنوں سے عوام اس مسئلے کے تعلق سے شکایات کر رہے تھے اور اب وزیر اعلیٰ کے پاس معاملہ پہنچنے کے بعد وہاں سے بھی مرمت کے احکامات جاری ہوگئے ہیں۔

bhatkal-tengangundi-road-1

Share: