بنگلورو 20/ڈسمبر (ایس او نیوز): ہفتہ کے روز بنگلورو کے یلہنکا کے قریب واقع کوگیلو بستی کی فقیر کالونی میں گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے عہدیداروں نے مبینہ طور پر غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے نام پر بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی انجام دی، جس کے نتیجے میں 400 سے زائد مکانات مسمار کر دیے گئے اور تین ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے۔
حکام نے اس کارروائی کے لیے مجموعی طور پر 9 ٹریکٹر اور 9 جے سی بی مشینوں کا استعمال کیا۔ اس کالونی میں تقریباً 90 فیصد خاندان اقلیتی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جو گزشتہ 30 برسوں سے اسی علاقے میں مکانات تعمیر کرکے رہائش پذیر تھے، تاہم اچانک کارروائی کے باعث انہیں بے دخل کر دیا گیا۔
متاثرین نے کہا کہ ’’ہم تین دہائیوں سے اسی جگہ پر رہ رہے تھے۔ اب ہمارے پاس نہ رہنے کے لیے گھر ہے اور نہ کھانے کا انتظام۔ ایسی حالت میں ہم اپنے بچوں کو لے کر کہاں جائیں؟‘‘
مکان سے محروم افراد کے مطابق، اسی علاقے میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت خود حکومت نے دی تھی اور سرکاری ہدایات کے مطابق ہی انہوں نے یہاں گھر تعمیر کیے تھے۔ ان کے پاس آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ اور دیگر تمام سرکاری دستاویزات موجود ہیں اور وہ یومیہ مزدوری کے ذریعے اپنی روزی روٹی چلا رہے تھے۔
متاثرین نے الزام لگایا کہ کئی خاندانوں نے اپنے مکانات کو بنیاد بنا کر بینکوں سے قرض بھی حاصل کیا تھا، لیکن اس کے باوجود بغیر کسی پیشگی نوٹس کے ان کے مکانات مسمار کر دیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض خواتین حاملہ ہیں، مگر انہدامی کارروائی کے دوران عہدیداروں نے ان کی حالت کا کوئی خیال نہیں رکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعدد عوامی نمائندوں نے انہیں مالکانہ حقوق فراہم کرنے کے وعدے کیے تھے، تاہم کبھی مکانات خالی کرنے کی ہدایت نہیں دی گئی۔ اچانک انہدام کے باعث بچوں کے تعلیمی سرٹیفکیٹس اور گھریلو سامان کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
متاثرین نے کہا کہ سرد موسم میں حاملہ خواتین، بچوں اور بزرگوں کو لے کر کہاں جائیں، یہ ایک بڑا سوال بن گیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ انتخابات کے دوران ووٹ مانگنے کئی لوگ آتے ہیں، لیکن آج ان کی مدد کے لیے کوئی سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے انہدامی کارروائی پر سوال اٹھایا تو پولیس نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی۔