بینگلورو، 18 فروری (ایس او نیوز): ریاست کرناٹک کے آئندہ 2026-27 بجٹ سیشن سے قبل کسان تنظیموں نے حکومت کے سامنے اپنے اہم مطالبات پیش کرتے ہوئے گئو ذبیحہ مخالف قانون 2020 کو واپس لینے کا مطالبہ بھی شامل کیا ہے۔ کسان لیڈران نے زور دے کر کہا کہ موجودہ حالات میں زرعی شعبہ شدید بحران سے گزر رہا ہے اور حکومت کو فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ مطالبات ودھان سودھا میں وزیر اعلیٰ سدارامیا کی قیادت میں منعقدہ ایک جائزاتی اجلاس کے دوران پیش کیے گئے۔ اجلاس میں وزیر زراعت چلوورایاسوامی، نیتی آیوگ کے نائب صدر بی آر پاٹل، فائنانشیل ایڈوائزر بسواراج رائے ریڈی، ریاستی چیف سکریٹری شالینی رجنیش اور ایڈیشنل چیف سکریٹری انجم پرویز سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کسان رہنما کروبورو شانتا کمار نے کہا کہ کسانوں کی خودکشی کے معاملے میں کرناٹک ملک میں دوسرے مقام پر ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کی خودکشی روکنے کے لیے مؤثر اور زمینی سطح پر قابل عمل اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے فصل بیمہ اسکیم میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ کسانوں کو حقیقی معنوں میں تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ایک اور کسان رہنما نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ سابقہ بی جے پی حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا گئو ذبیحہ مخالف قانون 2020 کسانوں کے مفادات کے خلاف ہے، لہٰذا اسے واپس لیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی وجہ سے مویشی پال کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
کسان تنظیموں نے اس کے علاوہ کئی دیگر اہم مطالبات بھی پیش کیے۔ ان میں کسان نوجوانوں کی شادی کے مسئلے کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا۔ لیڈران کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں کسان نوجوانوں کے لیے رشتہ طے ہونے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، اس لیے حکومت ایسی اسکیم متعارف کرائے جس کے تحت کسان نوجوانوں سے شادی کرنے والی دلہن کے نام پر 10 لاکھ روپے کی رقم بطور ڈپازٹ رکھی جائے۔
اسی طرح کسانوں نے مطالبہ کیا کہ کھیتی باڑی یا اس سے وابستہ چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے بلاسود قرض فراہم کیا جائے تاکہ دیہی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ مزید برآں مجوزہ بجلی قانون 2025، بیج سے متعلق قوانین اور زرعی اجناس کی مقررہ امدادی قیمتوں (ایم ایس پی) جیسے معاملات پر بھی کسانوں نے تشویش ظاہر کی اور حکومت سے ان مسائل کے حل کے لیے واضح پالیسی وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔
کسان لیڈران نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بجٹ میں زرعی شعبے کو ترجیح دی جائے گی اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے عملی اقدامات کا اعلان کیا جائے گا، تاکہ ریاست میں زرعی بحران پر قابو پایا جا سکے اور کسان برادری کو معاشی استحکام فراہم ہو۔