کولکاتہ ، 16/فرور ی (ایس او نیوز /ایجنسی)مغربی بنگال کے معروف ٹیچر بھرتی گھوٹالے میں ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اس گھوٹالے میں اب بی جے پی کے دو بڑے رہنماؤں— سابق ایم پی دیویندو ادھیکاری اور سابق آئی پی ایس افسر بھارتی گھوش— کے نام بھی شامل ہو گئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں بنگال کے سابق وزیر تعلیم پارتھا چٹرجی پہلے ہی جیل میں ہیں۔ یہ نیا انکشاف گھوٹالے کی تحقیقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
سی بی آئی نے حال ہی میں اس معاملے میں خصوصی عدالت میں ایک سپلیمنٹری چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں ان دونوں کے علاوہ ٹی ایم سی کی راجیہ سبھا رکن ممتا بالا ٹھاکر سمیت کئی بااثر لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔
سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے ذرائع کے مطابق، دیویندو ادھیکاری (بنگال اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سویندو ادھیکاری کے بھائی) اور بھارتی گھوش پر رشوت کے عوض اساتذہ کی بھرتی کے لیے سفارشات کرنے کا الزام ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق آئی پی ایس افسر بھارتی گھوش بھی بی جے پی سے وابستہ ہیں۔
سی بی آئی کی رپورٹ کے مطابق، دیویندو ادھیکاری اور ممتا بالا ٹھاکر نے 20-20 امیدواروں کی سفارش کی تھی، جب کہ بھارتی گھوش نے سفارش کی فہرست میں 4 امیدواروں کو شامل کیا تھا۔ سی بی آئی نے گزشتہ سال ریاستی محکمہ تعلیم پر چھاپہ مارا تھا اور ملزمین کے ذریعہ بھیجے گئے سفارشی خطوط سمیت بڑی تعداد میں دستاویزات برآمد کئے تھے۔
یہ گھوٹالہ جولائی 2022 میں سامنے آیا تھا، جب سی بی آئی نے اس وقت کے وزیر تعلیم پارتھا چٹرجی کو گرفتار کیا تھا۔ اس وقت ان کی قریبی دوست ارپیتا مکھرجی کے گھر سے 51 کروڑ روپے نقد، سونا اور غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی تھی۔ یہ بدعنوانی اس وقت ہوئی جب پارتھا چٹرجی وزیر تعلیم تھے اور اب اس میں بی جے پی لیڈروں کے نام سامنے آئے ہیں۔
سی بی آئی کی اس کارروائی سے بنگال کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ تاہم ملزمان نے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔ بھارتی گھوش نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے صرف ایک امیدوار کے لیے امتحانی مرکز تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کا نام بدعنوانی کے ساتھ منسلک پایا گیا تو وہ قانونی کارروائی کریں گی۔ ساتھ ہی ممتا بالا ٹھاکر نے اسے سیاسی سازش قرار دیا ہے۔ دیویندو ادھیکاری نے کہا کہ وہ صرف عدالت یا تفتیشی ایجنسی کے سامنے اپنا رخ پیش کریں گے۔
سی بی آئی اب جانچ کر رہی ہے کہ بدعنوانی کی جڑیں کتنی گہری ہیں اور کون کون سے بڑے لیڈر اس میں ملوث ہیں۔ بنگال میں بھرتی کے عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو لے کر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس گھوٹالے کا سیاسی اثر دونوں پارٹیوں یعنی بی جے پی اور ٹی ایم سی پر پڑ سکتا ہے۔