باگل کوٹ، 24/ فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)باگل کوٹ میں پنکا مسجد کے سامنے پیش آئے پتھراؤ کے واقعہ کے بعد بی جے پی حامی تنظیموں اور پولیس انتظامیہ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بعض تنظیموں نے مسجد کو سیل کرنے اور ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھارتھ گوئل کے تبادلے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایس پی نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
تنظیموں کی جانب سے پنکا مسجد کو ’’بدامنی کا مرکز‘‘ قرار دے کر اسے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس پر ایس پی سدھارتھ گوئل نے واضح کیا کہ کسی بھی مذہبی مقام کو قانونی جواز کے بغیر بند نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کی تفتیش جاری ہے اور چند افراد کی غلطی کی بنیاد پر پورے مذہبی مقام کو سیل کرنا مناسب نہیں۔
پولیس کی جانب سے احتجاج کے دوران کی گئی لاٹھی چارج کارروائی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ اس پر ایس پی نے وضاحت کی کہ ضلع میں دفعہ 144 نافذ تھی اور اس کے باوجود کچھ افراد نے مسجد کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی، جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کو ضروری اقدام کرنا پڑا۔
ضلع انتظامیہ نے چند متنازع تقاریر کرنے والے رہنماؤں کے باگل کوٹ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ممکنہ کشیدگی کو روکنے اور امن قائم رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
کچھ تنظیموں کی جانب سے مبینہ غیر قانونی عمارتوں کو مسمار کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا، تاہم ایس پی نے کہا کہ ایسی کارروائی شہری بلدیہ کا اختیار ہے، پولیس کا نہیں۔ پولیس کی ذمہ داری صرف امن و قانون کی بحالی تک محدود ہے۔
احتجاج کے دوران درج مقدمات واپس لینے کے مطالبے پر بھی پولیس نے انکار کر دیا ہے۔ ایس پی نے کہا کہ گرفتاریاں شواہد کی بنیاد پر کی گئی ہیں اور تفتیش میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی جاری رکھے گی، جبکہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔