نئی دہلی ، 16/فرور ی (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد عام آدمی پارٹی ابھی سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ اسے ایک اور بڑا جھٹکا لگ گیا۔ ہفتہ کے روز پارٹی کے 3 کونسلر بی جے پی میں شامل ہو گئے، جس سے عآپ کو سیاسی طور پر شدید نقصان پہنچا ہے۔ پارٹی چھوڑنے والوں میں انیتا بسویا، نکھل چپرانا اور دھرم ویر شامل ہیں، جو بالترتیب اینڈریوز گنج، بدرپور اور آر کے پورم کے میونسپل کونسلر تھے۔ اس کے علاوہ، نئی دہلی سے عام آدمی پارٹی کے سابق ضلع صدر سندیپ بسویا نے بھی بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ویریندر سچدیوا نے ان سبھی کو باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل کیا۔
میونسپل کونسلروں میں ہو رہی ہلچل سے صاف ہے کہ دہلی کی سیاست میں مزید کچھ تبدیلیاں آنے والے دنوں میں ہوں گی۔ جو حالات بن گئے ہیں، اس سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ دہلی اسمبلی کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن (ڈی ایم سی) میں بھی اقتدار کی تبدیلی ہونے جا رہی ہے۔ مارچ کے آخر میں ہونے والے میئر انتخاب میں بی جے پی کا میئر بننا یقینی مانا جا رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک عآپ کے ایک درجن کونسلر بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں میئر انتخاب میں جن 14 اراکین اسمبلی کا ووٹ ڈالا جائے گا، ان میں سے 10 اراکین اسمبلی اس مرتبہ بی جے پی کے ہوں گے۔
موجودہ حالات کو دیکھ کر یہ اندازہ صاف طور پر لگایا جا سکتا ہے کہ مارچ کے بعد دہلی میں ’ٹریپل انجن‘ کی حکومت دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ یعنی مرکز میں بی جے پی حکومت، دہلی میں بی جے پی حکومت، اور ایم سی ڈی میں بھی بی جے پی حکومت۔ ابھی دہلی اسمبلی انتخاب کے نتائج سامنے آئے بہت زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں، لیکن عآپ کے خلاف حالات تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں۔ دوسری طرف بی جے پی 27 سالوں بعد دہلی میں برسراقتدار ہو رہی ہے، بس انتظار اس بات کا ہو رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کون ہوگا!