نئی دہلی ، 22/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (آئیسا)کے عہدیداران نے منگل کو پریس کلب آف انڈیا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گزشتہ روز ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران دہلی پولیس کی کارروائی پر سخت مذمت کی۔اس موقع پر طلبہ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پورے واقعے کی عدالتی نگرانی میں آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی جس میں متعدد طلبہ اور نوجوان زخمی ہوئے جبکہ کئی مظاہرین کو بلاوجہ حراست میں بھی لیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئیسا کی آل انڈیا صدر نہا بورا نے کہا کہ طلبہ اور نوجوان ملک میں امتحانی نظام، پیپر لیک اور تعلیمی مسائل کے خلاف جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کر رہے تھے، لیکن دہلی پولیس نے ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ مظاہرین پر بلااشتعال لاٹھی چارج کیا گیا، خواتین کے ساتھ بھی سخت برتاؤ کیا گیا اور سادہ لباس میں موجود افراد بھی کارروائی میں شامل تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے واقعے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور گرفتار تمام طلبہ و کارکنوں کو فوری طور پررہا کیا جائے۔
پریس کانفرنس میں پولیس کارروائی سے متاثرہ کئی طلبہ اور نوجوانوں نے بھی اپنے تجربات بیان کئے۔ اس موقع پر ایک زخمی طالب علم نے کہا کہ ہم لوگ پرامن طریقے سے مارچ کر رہے تھے، لیکن پولیس نے اچانک ہمیں روک کر دھکے دیئے اور بلا وجہ لاٹھی چارج شروع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ متعدد طلبہ کو زمین پر گرا کر مارا گیا جس کے باعث کئی افراد زخمی ہوئے۔
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ایک طالبہ نے بتایا کہ خواتین مظاہرین کے ساتھ بھی سختی سے پیش آیا گیا اور احتجاج کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ متاثرین نے مطالبہ کیا کہ پورے واقعے کی شفاف جانچ کرائی جائے تاکہ ذمہ دار اہلکاروں کا تعین ہو سکے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ آئیسا نے سوال کیا کہ کارروائی کے دوران سادہ لباس میں موجود افراد کون تھے، انہیں کس اختیار کے تحت تعینات کیا گیا تھا اور بعض اہلکار بغیر نیم پلیٹ کے کارروائی کیوں کر رہے تھے؟ تنظیم کا کہنا تھا کہ ایسے اقدام پولیس کی شفافیت اور جوابدہی پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پولیس کارروائی کی عدالتی نگرانی میں جانچ کرائی جائے، زخمی طلبہ کو مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جائیں، حراست میں لیے گئے تمام طلبہ اور کارکنوں کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں اور جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے کے آئینی حق کا احترام کیا جائے۔ آئیسا نے واضح کیا کہ طلبہ کی تحریک پرامن انداز میں جاری رہے گی اور وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔