نئی دہلی ، 29/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)نیٹ احتجاج میں شامل رہنے والے طلبہ کی رہائی اور گرفتاری نہ کرنے کے سلسلے میں کاکروچ جنتا پارٹی کو مودی سرکار کی یقین دہانی کے برخلاف منگل کو پھر طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) نےملک بھر میں کریک ڈاؤن کا الزام عائد کیا ہے۔
دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں آئیسا کے لیڈروں نے بتایا کہ بہار اور دہلی سمیت کئی ریاستوں میں طلبہ کو گرفتار کیا جا رہا ہے، حراست میں لیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف پولیس کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں اور انہیں من مانی طریقے سے گرفتاریاں ہورہی ہیں۔ تنظیم کے مطابق دہلی، آسام، مغربی بنگال اور بہار میں طلبہ کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں جو بی جے پی کے اقتدار والی ریاستیں ہیں۔
آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا جو بہارکا دورہ کرکے لوٹی ہیں، نے اس تعلق سے تفصیل فراہم کی جبکہ ان کے ساتھ دہلی یونیورسٹی یونٹ کی سیکریٹری انجلی، احتجاجی رضاکار ایم جنید اور غیر قانونی حراستوں کے خلاف قانونی ٹیم کے وکیل مانک گپتا موجود تھے۔
نہا نے کہاکہ’’سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے ایم ایل اے سندیپ سورَو اور ایسے کے کئی کارکن اب بھی پرچہ لیک کے خلاف احتجاج میں شرکت کے باعث جیل میں ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’خاص طور پر بہار میں طلبہ اور نوجوان کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘‘نیہا نے کہاکہ’’ہمیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پرکوئی جبر نہیں ہوگا لیکن اس کے برعکس ملک بھر میں طلبہ کی گرفتاریاں، من مانی حراستیں اور انہیں ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں، زیر حراست افراد کو رہا کرنا چاہیے اور طلبہ کے اندیشوں پر سنجیدگی سے بات کرنی چاہیے۔‘‘