بنگلورو 8/فروری (ایس او نیوز) : انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن ـ ایس آئی آر) کے دوران ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے مبینہ واقعات اور ریاستی حکومت کی خاموشی کے خلاف فریڈم پارک میں سماجی و شہری حقوق کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس کے دوران احتجاجیوں نے ’’بیڈا بیڈا ایس آئی آر بیڈا‘‘ (یعنی نہیں چاہئے نہیں چاہئے ایس آئی آر نہیں چاہئے) کے نعرے لگاتے ہوئے انتخابی عمل میں شفافیت اور وضاحت کا مطالبہ کیا۔ مختلف تنظیموں سے وابستہ کارکنوں نے نظموں اور نعروں کے ذریعے ووٹنگ کے بنیادی حق کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایس آئی آر پر اپنا واضح موقف سامنے لائے۔

آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (اے آئی ٹی یو سی) کی نائب صدر ایم جیمّا نے کہا کہ کئی شادی شدہ خواتین، جو دہائیوں قبل شہر منتقل ہو چکی ہیں، ان سے والد کی شناخت، آبائی مقام اور دیگر دستاویزی ثبوت طلب کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مطلوبہ ثبوت فراہم نہ کرنے کی صورت میں ان خواتین کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ عمل جاری رہا تو اس سے حقیقی شہری حقِ رائے دہی سے محروم ہو جائیں گے اور معاشرے میں غیر ضروری سماجی و مذہبی تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی اہل ووٹر کو اس کے آئینی حق سے محروم نہ کیا جائے۔
’مائی ووٹ مائی رائٹ‘ کے وکیل ونے سرینیواس نے کہا کہ ایس آئی آر کا موجودہ طریقۂ کار ہر شہری کے ووٹنگ حق کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل اس قدر غیر منظم ہے کہ کسی کا بھی نام فہرست سے خارج کیا جا سکتا ہے، اور خدشہ ہے کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے کا اثر پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس، راشن کارڈ اور تعلیمی وظائف جیسے دیگر دستاویزات پر بھی پڑ سکتا ہے۔
خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں کے نیٹ ورک ’نویدّو نِلّددِدارے‘ کی نمائندہ ممتا یجمان نے کہا کہ بڑی تعداد میں شادی شدہ خواتین کو انتخابی فہرستوں سے خارج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کے حقوق کا اس طرح غائب ہونا حکومت اور الیکشن کمیشن کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں مکمل شفافیت اختیار کی جائے اور کسی بھی شہری کو بلاجواز اس کے حقِ رائے دہی سے محروم نہ کیا جائے۔