نئی دہلی ، 15/فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)ہندوستان میں 2014 سے ہونے والے تمام لوک سبھا انتخابات میں ای وی ایم میں ’نوٹا‘ (درج بالا میں سے کوئی نہیں) کا متبادل شامل رہا ہے، جو اکثر بحث کا موضوع بنتا رہا ہے۔ حال ہی میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ 2014 کے عام انتخابات کے بعد نوٹا کا سب سے کم ووٹ فیصد 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں درج کیا گیا۔
الیکشن کمیشن کی رپورٹ ’ایٹلس 2024‘ کے مطابق گزشتہ تین لوک سبھا انتخابات میں نوٹا ووٹوں کی تعداد میں لگاتار گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ 2014 میں نوٹا ووٹوں کا فیصد 1.08 تھا، جو 2024 میں گھٹ کر 0.99 فیصد ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ فیصد کم نظر آتا ہے، لیکن یہ اہم ہو سکتا ہے۔ خاص طور سے ان سیٹوں پر جہاں جیت کا فرق کم تھا، اور جہاں نوٹا ووٹوں نے انتخابی نتائج کو متاثر کیا ہو۔
ریاستوں میں نوٹا ووٹوں کا فیصد الگ الگ رہا ہے، جو مختلف سیاسی سرگرمیوں، ووٹرس کی ترجیحات اور سیاسی شراکت داریوں کی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ بہار میں نوٹا ووٹوں کا فیصد سب سے زیادہ 2.07 فیصد رہا، جبکہ دادر و نگر حویلی اور دمن و دیو میں یہ 2.06 فیصد تھا۔ گجرات میں یہ 1.58 فیصد رہا، جبکہ ناگالینڈ میں نوٹا ووٹوں کا فیصد سب سے کم 0.21 فیصد تھا۔ یہ کچھ ایسا اشارہ دیتا ہے کہ ناگالینڈ کے ووٹرس عام طور پر کسی نہ کسی امیدوار کو پسند کرتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ نوٹا ووٹوں کے یہ نمبرس مختلف ریاستوں میں انتخابی عمل اور ووٹرس کی شراکت داری کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2013 میں سپریم کورٹ کے حکم کو پیش نظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ای وی ایم پر نوٹا بٹن کو آخری متبادل کی شکل میں جوڑا تھا۔ اس سے قبل جو لوگ کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے، انھیں ’فارم 49 او‘ بھرنا پڑتا تھا، لیکن اس سے ووٹرس کی رازداری پر سوال اٹھتے تھے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے یہ گزارش کی تھی کہ اگر ووٹرس نے اکثریت سے نوٹا متبادل کا انتخاب کیا تو نئے انتخاب کرائے جائیں، لیکن یہ مشورہ قبول نہیں کیا گیا تھا۔