ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں ’ننا بھومی‘ مہم کو زبردست کامیابی: سات ماہ میں ایک لاکھ سے زائد زمینوں کی حد بندی مکمل، لاکھوں صفحات ڈیجیٹلائز

کرناٹک میں ’ننا بھومی‘ مہم کو زبردست کامیابی: سات ماہ میں ایک لاکھ سے زائد زمینوں کی حد بندی مکمل، لاکھوں صفحات ڈیجیٹلائز

Sat, 05 Jul 2025 11:03:41    S O News

بنگلورو، 5 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)ریاستی حکومت کی جانب سے زمین سے متعلق مسائل کے حل کے لیے شروع کی گئی ’ننا بھومی – میری زمین، میرا حق‘ مہم کو صرف سات مہینوں میں مثالی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ریاستی وزیر برائے روینیو کرشنا بائرے گوڈا نے ہفتہ کے روز ودھان سودھا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس کا اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2024 میں شروع کی گئی اس خصوصی مہم کے تحت اب تک ریاست بھر میں 1,04,222 زمینوں کی حد بندی مکمل کی جا چکی ہے، جب کہ سابقہ بی جے پی حکومت کے تین سالہ دور میں صرف 5,801 زمینوں کی پیمائش ممکن ہو سکی تھی۔ کرشنا گوڈا نے بتایا کہ ان میں سے 20 فیصد زمینوں کی مکمل قانونی حد بندی ہو چکی ہے، جب کہ باقی زمینوں پر آئندہ 6 ماہ میں کام مکمل کیا جائے گا۔ مزید 50 ہزار سے 70 ہزار نئے کیسز بھی اس مہم کے تحت شامل ہونے کی توقع ہے۔

وزیر موصوف نے واضح کیا کہ کئی دہائیوں قبل جن کسانوں کو زمین الاٹ کی گئی تھی، ان کی اب تک سرکاری طور پر حد بندی نہیں ہو پائی تھی، جس کی وجہ سے کسانوں کو نہ صرف قانونی مسائل کا سامنا تھا بلکہ ان کی زمین کی ملکیت بھی مشکوک بنی ہوئی تھی۔ اس مہم کے تحت اب سرکاری اہلکار کسانوں کے گھروں پر جا کر ان کی زمینوں کی پیمائش کر رہے ہیں اور انہیں مکمل قانونی دستاویزات فراہم کر رہے ہیں۔

کرشنا بائرے گوڈا نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ ’بھو سرکشا‘ اسکیم کے تحت اب تک ریاست میں 29.8 کروڑ صفحات کو اسکین کرکے ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے، اور سال کے آخر تک ریاست کے تمام تحصیل دفاتر کے زمین سے متعلق ریکارڈس کو ڈیجیٹل بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کسانوں کو اب تحصیل دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ گھر بیٹھے اپنی زمین کے قانونی کاغذات آن لائن حاصل کر سکیں گے۔

فی الحال یہ اسکیم ریاست کے 31 تعلقہ جات میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر نافذ کی جا چکی ہے اور رواں سال کے اختتام تک اسے پورے کرناٹک میں لاگو کیا جائے گا۔

وزیر روینیو نے کہا کہ 2,600 سے زائد ویلیج ایڈمنسٹریشن افسران (VAOs) کو دفاتر فراہم کیے جا چکے ہیں، اور بقیہ 3,500 افسران کے لیے بھی جلد دفاتر فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وی اے افسران کو پنچایت دفاتر کے احاطے میں مستقل دفاتر دیے جا رہے ہیں، جو اس سے قبل کھلے میں کام کرنے پر مجبور تھے۔

کرشنا بائرے گوڈا نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل تحصیل داروں کی عدالتوں میں 10,774 مقدمات زیر التوا تھے، جن کی تعداد گھٹ کر اب 457 رہ گئی ہے۔ اسی طرح اے سی/ڈی سی عدالتوں میں زیر التوا 62,857 مقدمات کو کم کرکے 20,211 تک لایا گیا ہے اور باقی مقدمات کو آئندہ چار ماہ میں نمٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ریاستی حکومت کے یہ اقدامات دیہی علاقوں کے کسانوں کے لیے زمین سے متعلق قانونی سہولتوں کو بہتر بنانے اور شفافیت لانے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں۔


Share: