قاہرہ،11ستمبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)بین الاقوامی پولیس انٹرپول نے سرکردہ عالم دین یوسف القرضاوی کا نام بین الاقوامی اشتہاریوں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ دوسری جانب مصر نے انٹرپول سے اس اقدام کی وضاحت طلب کی ہے کیونکہ القرضاوی پر قتل، دہشت گردی ، جلاؤ گھیراؤ اور مصر کی قومی املاک کی توڑپھوڑ جیسے سنگین الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ مصر کے انہی الزامات کے بعد القرضاوی کا نام بین الاقوامی اشتہاریوں کی ریڈ لسٹمیں شامل کیا گیا تھا۔ انٹرپول نے علامہ یوسف القرضاوی کا نام بین الاقوامی اشتہاریوں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ اس پر مصری حکام نے انٹرپول سے کہا ہے کہ وہ ریڈ لسٹ میں شامل اشتہاری کا نام خارج کرنے کی وضاحت کرے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق انٹرپول کی ویب سائیٹ پر موجود اشتہاریوں میں الشیخ یوسف القرضاوی کا نام سرخ نشان سے ظاہر ہونے والے اشتہاریوں میں شامل تھا مگر اب ان کا نام اس فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق انٹرپول کو معلوم ہوا ہے کہ مصری حکومت کی طرف سے علامہ یوسف القرضاوی کے خلاف جتنے بھی الزامات عاید کیے گئے تھے ان کا پس منظر محض سیاسی تھا۔انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ انٹرپول کی ویب سائیٹ پر شیخ یوسف القرضاوی کا نام لوٹ مار کرنے، جلاؤ گھیرا اور قتل جیسے جرائم میں ملوث عناصر میں شامل تھا مگر تحقیقات کے بعد انٹرپول اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ مذکورہ تمام الزامات ان کی شخصیت کا حصہ نہیں ہوسکتے۔ وہ مصر میں موجود ہی نہیں تووہاں پر لوٹ مار، قتل وغارت گری یا جلاؤ گھیراؤ میں ملوث کیسے ہوسکتے ہیں۔خیال رہے کہ انٹرپول نیمصری حکومت کے مطالبے پر ممتاز عالم دین الشیخ یوسف القرضاوی کو اشتہاری قرار دیا تھا۔الشیخ یوسف القرضاوی مصری ہیں مگران کے پاس قطر کی شہریت بھی ہے۔ وہ طویل عرصے سے قطر ہی میں مقیم ہیں۔