نئی دہلی، 12/مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) ہاتھرس میں اکٹوبر 2020ء میں مسعود احمد کو یو اے پی اے اور ای ڈی کیس میں صحافی صدیق کپن اور دیگر کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ مسعود کو ساڑھے تین سال متھرا جیل میں سنگین الزامات کا سامنا کرنے کے بعد بالآخر رہا کیا گیا۔ واضح رہے کہ کئی بار ضمانت کی عرضی مسترد کئے جانے کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ نے مئی 2023ء میں ای ڈی کیس میں مسعود کو ضمانت دی تھی۔ بعد میں 12 مارچ 2024ء کو انہیں یو اے پی اے کیس میں بھی ضمانت مل گئی لیکن اہل خانہ کے مطابق ان کی رہائی کے عمل میں تقریباً 2 ماہ لگ گئے۔ یاد رہے کہ مسعود احمد کے علاوہ ایک اور اسٹونڈنٹ لیڈر رئوف شریف، صحافی صدیق کپن، اسٹوڈنٹ لیڈر عتیق الرحمن اور محمد عالم جو اس کیس میں ملزم تھے، بھی اس سے قبل یو اے پی اے اور ای ڈی کیس میں ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔ مسعود کو 5 اکٹوبر 2020 کو متھرا میں اس دلت خاتون کی رہائش گاہ پر جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا جسے اترپردیش کے ہاتھرس میں اونچی ذات کے افراد نے مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کرنے کے بعد قتل کردیا تھا۔ مسعود، عتیق کے ساتھ کیمپس فرنٹ آف انڈیا کے ایک وفد کی قیادت کررہے تھے جو ممنوعہ پی ایف آئی کا اسٹوڈنس ونگ تھا۔