نئی دہلی 11/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) آبنائے ہرمز میں بدھ کے روز ہندوستان جانے والے ایک کارگو جہاز پر ایرانی حملے کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں عملے کو ہنگامی طور پر جہاز چھوڑنا پڑا۔ بعد ازاں عمان کی بحریہ نے ریسکیو آپریشن کے دوران عملے کے بیشتر افراد کو بچا لیا جبکہ چند ملاح تاحال لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔
رپورٹوں کے مطابق تھائی لینڈ کے پرچم والے بلک کیریئر “میوری ناری” (Mayuree Naree) کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ متحدہ عرب امارات کے خلیفہ پورٹ سے روانہ ہو کر ہندوستان کی ریاست گجرات میں واقع کنڈلا بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا۔ حملے کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم کے قریب دھماکہ ہوا اور جہاز میں آگ لگ گئی جس کے بعد سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
تھائی وزارتِ ٹرانسپورٹ اور بحریہ کے مطابق جہاز پر کل 23 ملاح سوار تھے۔ حملے کے بعد عملے نے لائف بوٹس اور لائف رافٹس کے ذریعے جہاز چھوڑ دیا۔ عمان کی رائل نیوی نے سمندر میں پھنسے 20 ملاحوں کو بحفاظت نکال لیا جبکہ تین ملاح لاپتہ بتائے جا رہے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے بعد میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے بحری دستوں نے چند تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا کیونکہ انہوں نے ایرانی فورسز کی وارننگ کو نظرانداز کیا تھا۔
عالمی میڈیا کے مطابق اسی روز آبنائے ہرمز میں کم از کم تین مختلف تجارتی جہازوں پر پروجیکٹائل حملے کیے گئے جن میں جاپان کے جھنڈے والے ایک کنٹینر جہاز اور مارشل آئی لینڈ کے پرچم والے ایک بلک کیریئر کو بھی نقصان پہنچا، تاہم ان جہازوں کے تمام عملے محفوظ بتائے گئے ہیں۔
دریں اثنا ہندوستان نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے اور خلیجی سمندری راستوں کی سلامتی پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس خطے میں جہاز رانی کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں اور کئی جہاز متبادل راستے اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔