بھٹکل، 15 مارچ (ایس او نیوز): سنیچر کو منعقدہ نیشنل لوک عدالت کے دوران اُترکنڑا ضلع میں بڑی تعداد میں مقدمات باہمی مفاہمت کے ذریعے نمٹائے گئے۔ سرکاری معلومات کے مطابق بھٹکل میں 1402 مقدمات سمیت پورے ضلع میں 5313 مقدمات کا تصفیہ کیا گیا۔
یہ لوک عدالت ضلع قانونی خدمات اتھارٹی اور مختلف تعلقہ قانونی خدمات کمیٹیوں کے زیر اہتمام منعقد کی گئی۔ ضلع کی مختلف عدالتوں میں قائم 23 بنچوں کے ذریعے کارروائی انجام دی گئی۔
حکام کے مطابق لوک عدالت میں 1.12 لاکھ سے زائد مقدمات زیر غور لائے گئے جن میں قبل از مقدمہ تنازعات اور عدالتوں میں زیر التوا مقدمات شامل تھے۔ ان مقدمات کے تصفیے کے نتیجے میں قرض کی واپسی، معاوضہ، جرمانہ اور دیگر مالی معاملات کے تحت 34 کروڑ 79 لاکھ روپے سے زائد کی رقم کی ادائیگی طے پائی۔
نمٹائے گئے مقدمات میں بینک سے متعلق تنازعات، قابل مصالحت فوجداری مقدمات، بجلی اور جائیداد ٹیکس کے بقایاجات، پانی کے بل، چیک باؤنس مقدمات، ازدواجی تنازعات، سڑک حادثات کے معاوضے سے متعلق مقدمات اور دیگر دیوانی و فوجداری معاملات شامل تھے۔
حکام کے مطابق لوک عدالت کے دوران بعض خاندانی تنازعات میں مثبت پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی، جہاں ثالثی کے بعد میاں بیوی نے دوبارہ ساتھ رہنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس کے علاوہ نان و نفقہ سے متعلق متعدد مقدمات بھی باہمی مفاہمت سے نمٹائے گئے۔
کاروار میں ضلع قانونی خدمات اتھارٹی کی رکن سکریٹری اور سینئر سول جج دیویا شری سی ایم نے نیشنل لوک عدالت کے دوران بڑی تعداد میں مقدمات کے تصفیے میں تعاون کرنے والے تمام متعلقہ افراد اور اداروں کو مبارکباد پیش کی۔
بھٹکل میں 1402 مقدمات نمٹائے گئے

بھٹکل میں لوک عدالت کی کارروائی بھٹکل جے ایم ایف سی عدالت میں منعقد ہوئی جہاں تین الگ الگ ہالوں میں تین بنچ قائم کیے گئے تھے۔ ان بنچوں کے ذریعے مجموعی طور پر 1402 مقدمات باہمی مفاہمت کے ذریعے نمٹائے گئے۔
ایڈیشنل سول جج دھنوتی کی صدارت میں قائم بنچ کے سامنے پیش ہوئے 625 مقدمات میں سے 575 مقدمات نمٹائے گئے جن میں 2 کروڑ 26 لاکھ 60 ہزار 875 روپے کی رقم طے پائی۔
اسی طرح سینئر سول جج کانتا کورنے کی صدارت میں قائم بنچ کے سامنے پیش ہوئے 303 مقدمات میں سے 280 مقدمات نمٹائے گئے جن میں 1 کروڑ 99 لاکھ 86 ہزار 153 روپے کی رقم طے ہوئی۔
جبکہ پرنسپل سول جج دیپا ارالاگنڈی کی سربراہی میں قائم بنچ کے سامنے پیش ہوئے 598 مقدمات میں سے 547 مقدمات نمٹائے گئے جن میں 2 کروڑ 17 لاکھ 98 ہزار 566 روپے کی رقم طے پائی۔
اس موقع پر وکلاء شبینہ، شراویا نائک اور سہانا موگیر نے ثالث (مصالحت کار) کے طور پر خدمات انجام دیں۔
