تہران 16 مارچ (ایس او نیوز/ایجنسیاں):ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے جاری علاقائی کشیدگی اور امریکہ-اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تصادم کے پس منظر میں مسلم ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے سخت سوال اٹھایا ہے کہ وہ اس تنازع میں آخر کس فریق کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایرانی میڈیا اور علاقائی ذرائع کے مطابق ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی قیادت نے مسلم دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ بحران میں واضح مؤقف اختیار کرے اور خاموشی یا غیر جانبداری ترک کرے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب ایران پر بیرونی دباؤ اور عسکری حملوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے تو اسلامی ممالک کی جانب سے واضح حمایت نہ آنا حیران کن اور مایوس کن ہے۔ ایرانی قیادت نے کہا کہ یہ صرف ایران کا معاملہ نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے وقار اور خودمختاری کا مسئلہ ہے۔
مسلم دنیا سے سوال
ایرانی قومی سلامتی قیادت نے اپنے بیان میں کہا کہ “مسلم ممالک کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔ کیا وہ ان قوتوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو خطے پر حملے کر رہی ہیں یا اس ملک کے ساتھ جو اپنی خودمختاری کا دفاع کر رہا ہے۔”
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے اور عالمی سطح پر اس بحران پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
اسی دوران خلیج کے اہم بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز کے اردگرد کشیدگی بڑھ گئی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی سپلائی اور تجارت پر بھی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایران کا مؤقف
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کسی دباؤ کے آگے جھکنے والا نہیں اور اگر اس پر حملے جاری رہے تو وہ اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ ایران کی قیادت کے مطابق یہ جنگ صرف ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے کے سیاسی توازن اور خودمختاری کے خلاف ہے۔
عالمی ردعمل
اس تنازع کے بعد دنیا بھر میں مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ بعض ممالک نے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ کچھ علاقائی طاقتیں اس بحران میں اپنے مفادات کے مطابق سفارتی یا عسکری حکمت عملی اختیار کر رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے قومی سلامتی سربراہ کا “آپ کس کے ساتھ ہیں؟” والا سوال دراصل مسلم دنیا کو واضح پیغام ہے کہ موجودہ جغرافیائی اور سیاسی بحران میں غیر جانبداری کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں مسلم ممالک پر اپنا موقف واضح کرنے کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔