ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہائی کورٹ کے جج کا سپریم کورٹ پر سنگین الزام ، عدالت عظمیٰ میں ہوتا ہے اختیارات کا بیجا استعمال اور ’نیچی ذات ‘ کے ججوں کا ہوتا ہے استحصال

ہائی کورٹ کے جج کا سپریم کورٹ پر سنگین الزام ، عدالت عظمیٰ میں ہوتا ہے اختیارات کا بیجا استعمال اور ’نیچی ذات ‘ کے ججوں کا ہوتا ہے استحصال

Tue, 14 Feb 2017 12:53:03    S.O. News Service

کولکاتہ،13؍ فروری ( ایس او نیوز ؍ ایجنسی) سپریم کورٹ کی طرف سے توہین عدالت کا نوٹس ملنے کے بعد کولکاتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سی ایس کرنن نے سپریم کورٹ کے کسی موجودہ جج کو نوٹس تھمانے کے حق پر ہی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ اونچی ذات کے جج ، ایک دلت جج سے چھٹکارا پانے کے لئے اپنے حقوق کا ناجائز استعمال کررہے ہیں۔ بتادیں کہ جسٹس کرنن وہی ہیں جو 2011ء سے پہلے اور موجودہ ججوں پر الزام لگاتے آرہے ہیں کہ ان (کرنن کے) دلت ہونے کی وجہ سے انہیں دوسرے ججوں کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتارہا ہے۔ 2016ء میں جسٹس کرنن نے سپر یم کورٹ لیجئیم کی طرف سے انہیں کولکاتہ ہائی کورٹ میں منتقل کئے جانے کے حکم پر کہا تھا کہ انہیں دکھ ہے کہ وہ ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں اور وہ ایسے ملک میں جانا چاہتے ہیں جہاں نسل پرستی نہ ہو۔ عدالت عظمیٰ کے صبر کا پیمانہ تب لبریز ہوگیا جب اسی سال جنوری میں کرنن نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر سپر یم کورٹ اور مدارس ہائی کورٹ (جہاں وہ پہلے تعینات تھے) کے ججوں پر بدعنوانی کے الزام لگائے ۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے خط میں موجودہ اور ریٹائرڈ ہوچکے 20؍ ججوں کے نام بھی لکھے ۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے 8؍ فروری کو جسٹس کرنن کو نوٹس جاری کیا اور پوچھا کہ کیوں نہ اس کو کورٹ کی توہین تصور کیا جائے ۔ غور طلب ہے کہ اس طرح کا نوٹس پانے والے کرنن ہائی کورٹ کے پہلے موجودہ جج ہیں۔ اب کرنن نے اس نوٹس کے جواب میں کہا ہے کہ سپر یم کورٹ کو ہائی کورٹ کے موجودہ جج کو نوٹس بھیجنے کا کیا حق ہے۔

کرنن نے کہا کہ سپر یم کورٹ چاہے تو ان کے خلاف توہین عدالت کا معاملہ پارلیمنٹ میں بھیج سکتا ہے۔ ایک انگریزی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سپر یم کورٹ کے نوٹس کے جواب میں کرنن کے ذریعہ لکھے گئے خط کی کاپی ان کے پاس دستیاب ہے۔ اخبار کے مطابق کرنن نے لکھا ہے کہ یہ حکم کسی دلیل پر عمل نہیں کرتا اس لئے اس پر عمل در آمد کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے اس حکم کی علامات صاف طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح قانون اونچی ذات کے ججوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنی عدالتی طاقتوں کو ایس سی ؍ ایس ٹی کے جج سے چھٹکارا پانے کے لئے اس کا بے جا استعمال کررہے ہیں۔ اس لئے 8؍ فروری 2017ء کو جاری کیا گیا حکم قانون کے تحت نہیں قائم رہ سکتا ۔ بتادیں کہ کولکاتہ ہائی کورٹ میں تعینات جسٹس کرنن کو مارچ 2009ء میں مدراس ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد وہ مسلسل ججوں اور سپر یم کورٹ کے خلاف اپنے مختلف بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں رہے ۔ سب سے زیادہ بحث میں وہ اس وقت آئے جب انہوں نے 2011ء میں ایس سی قومی کمیشن کو خط لکھا کہ ان کے دلت ہونے کی وجہ سے وہ دوسرے ججوں کی طرف سے ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ دوسرے جج انہیں چھوٹا ثابت کرنے پر تلے ہوتے ہیں ۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ کس طرح ایک شادی کے پروگرام میں ایک دوسرے جج نے اپنے پیروں کو یہ سوچ کر تھوڑا دور کر لیا کہ کہیں کرنن کا پاؤں ان سے چھو نہ جائے ۔ کرنن کی بطور جج تقرری کی سفارش کرنے والے ہائی کورٹ کو لیجئیم کے تین میں سے ایک جج نے گزشتہ سال عوامی طور پر کرنن کی تقرری کے لئے معافی مانگی تھی۔


Share: