عماد البل،18مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)گھانا میں مختلف حلقوں بالخصوص اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی کابینہ میں وزراء کی بڑی تعداد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔گھانا کے نئے صدر نانا اکوفو اڈو نے بدھ کے روز 54 افراد کو نامزد کیا جو حکومت کے وزراء کے نائب یا وزارتوں کے سکریٹری کے طور پر ذمے داری انجام دیں گے۔ اس طرح حکم راں جماعت”نیو پیٹریاٹک پارٹی“ کی حکومت میں نامزد وزراء اور نائب وزراء کی مجموعی تعداد 110 ہوچکی ہے۔اپوزیشن جماعت نیشنل ڈیموکریٹک کانگریس کے سکریٹری جنرل جانسن اسیڈو نے اس اقدام پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر اکوفو اڈو انتخابات سے قبل کیے گئے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں جس میں انہوں نے ”ہلکی انتظامیہ“ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ اسیڈو کے مطابق سابقہ حکومت کے وزراء کی تعداد (82) کافی بڑی شمار کی جا رہی تھی اور وہ ملک کی ترقی میں ناکام رہی تاہم موجودہ صورت حال میں یقینا عوام کے مال کا بہت بڑا حصہ کابینہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں برباد ہوگا۔
دسمبر 2016 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اکوفو اڈو نے 53.3فیصدجب کہ مدتِ صدارت مکمل کرنے والے جان ماہاما نے 44.4فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ اکوفو نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ دولت جمع کرنے کے واسطے اقتدار کے لیے کوشاں نہیں۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد 67 روز سے بھی کم عرصے میں نئے صدر نے پرانی کابینہ کے مقابلے میں موجودہ حکومت کا حجم 30فیصد سے بھی زیادہ بڑھا دیا ہے۔
تنقید کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ وزراء کی بڑی تعداد کا مطلب ہے اختیارات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ مثلا ملک میں ایک وزیر زراعت ہے اور اس کے تین معاونین ہیں جب کہ زراعت کا وزیر مملکت بھی موجود ہے۔ ان کے علاوہ آبی پودوں اور حیوانات کے وزیر اور اس کے معاون کا منصب بھی ہے۔مقامی اخبار ”گھانا گارڈیئن“کا کہنا ہے کہ ملک کو زیادہ سے زیادہ 30 وزراء کے ساتھ بآسانی چلایا جا سکتا جو ریاست کے تمام علاقوں اور ذمے داریوں کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔گھانا کی آبادی تقریبا 2.5 کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔ قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود اس کا شمار درمیانی آمدنی والے ممالک ہوتا ہے۔ گھانا کی نمایاں ترین شخصیات میں اقوام متحدہ کے ایک سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان بھی ہیں۔