ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / گیس سلنڈر بحران پر اپوزیشن کا حکومت پر حملہ، کئی ریاستوں میں تجارتی ایل پی جی کی سپلائی محدود

گیس سلنڈر بحران پر اپوزیشن کا حکومت پر حملہ، کئی ریاستوں میں تجارتی ایل پی جی کی سپلائی محدود

Wed, 11 Mar 2026 12:29:08    S O News

نئی دہلی  ، 11/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے سے ہندوستان میں گیس سلنڈروں کی فراہمی پر بھی اثر پڑا ہے اور کئی مقامات پر قلت کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ گھریلو گیس کی طلب میں اضافے کے درمیان دہلی، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اتر پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ سمیت متعدد ریاستوں میں تجارتی گیس سلنڈروں کی سپلائی محدود کر دی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی شہروں میں ریستوران اور ہوٹل مالکان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بعض کو عارضی طور پر کاروبار بند کرنے تک کی نوبت آ گئی ہے۔ ادھر مرکزی حکومت نے ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کو روکنے کیلئے ضروری اشیاء ایکٹ1955کو ملک بھر میں نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چھوٹے ہوٹلوں اور ریستورانوں کے مالکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے ۔

 ملک کے کئی بڑے شہروں میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت کی خبروں کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے لیڈروں نے حکومت کی توانائی پالیسیوں اور اس کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کرنے کے بجائے گمراہ کر رہی ہے ۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے ممبئی اور بنگلور کے بعض ریستورانوں میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے   اس کیلئے مرکزی حکومت اور پیٹرولیم کی وزارت کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے گھریلو اور کمرشیل ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور اب کئی علاقوں میں گیس سلنڈر کی فراہمی میں تاخیر کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔

پرمود تیواری کے مطابق بعض مقامات پر گھریلو گیس سلنڈر کی بکنگ25 دن سے پہلے ممکن نہیں ہو رہی جو حکو مت کی پالیسی ناکامی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان توانائی کے وسائل کیلئے بیرونی ممالک پر انحصار کر رہا ہے تو حکومت کو اس حوالے سے واضح حکمت عملی پیش کرنی چاہئے اور ملک میں گیس کی مسلسل اور منظم فراہمی کو یقینی بنانا چاہئے۔

سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے متعدد شہروں میں ہوٹلوں میں ایل پی جی سلنڈر کی کمی کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں توانائی کے وسائل کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے لیکن حکومت اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ملک میں ایل پی جی اور پیٹرول و ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں استعمال ہونے والے پیٹرول، ڈیزل اور کچے تیل کا تقریباً 80فیصد حصہ بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر سپلائی متاثر ہونے کا اثر ملک پر بھی پڑنا فطری ہے۔ رام گوپال یادو نے الزام لگایا کہ خام تیل کی فراہمی میں کمی کے باوجود مرکزی حکومت مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملک میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسی معاملے پر سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نیرج کشواہا موریہ نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی پالیسیوں کے سبب عام لوگوں پر پہلے ہی مہنگائی کا بوجھ بڑھ چکا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب گیس کی قلت کی خبریں سامنے آنا انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور جنگ جیسے حالات توانائی کی عالمی سپلائی کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب دستیابی یقینی بنائے۔


Share: