تہران 5/مارچ (ایس او نئوز/رائٹرس) ایران نے اسرائیل کے ساتھ امریکہ کو بھی کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی تو ہم اسرائیل کے دیمونا میں واقع جوہری مرکز کو نشانہ بنائیں گے۔
حالیہ دنوں میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم ایران میں ایسے حالات پیدا کریں گے جس کے تحت ایرانی عوام موجودہ حکومت کو تبدیل کر سکیں۔
اگرچہ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ ٹرمپ چند دنوں میں یہ دعویٰ کرتے ہوئے کارروائی ختم کر سکتے ہیں کہ مقصد حاصل ہو گیا ہے، تاہم اسرائیل کے سینئر حکام نے بتایا کہ امریکہ اس کارروائی میں اس وقت تک شامل رہے گا جب تک کہ واقعی ایران میں حکومت کی تبدیلی نہ ہو جائے۔
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بتایا، “ٹرمپ اس اقدام کو آخری حد تک لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پہلے ہی ہدف متعین کر لیا ہے۔ وہ حکومت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور اس معاملے میں پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ مگر ایسے میں ایران نے جس جوہری مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، اگر وہ اس پر کاروائی کرگذرتا ہے تو اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کی مانیں تو دیمونا اسرائیل کا سب سے اہم جوہری تحقیقی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس پر میزائل یا ڈرون حملہ ہوتا ہے تو ری ایکٹر یا جوہری مواد کو نقصان پہنچنے کی صورت میں تابکاری پھیلنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔اس سے قریبی علاقوں میں ماحولیاتی اور انسانی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔