تہران ، 11/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کی تیل اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، مگر تہران کے پاس ایسے کئی غیر متوقع اقدامات موجود ہیں جو حالات کو بدل سکتے ہیں۔ عراقچی نے واضح کیا کہ اگر ایران کے خلاف جارحیت جاری رہی تو اس کا بھرپور اور مناسب جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے دفاع کے جائز اور قانونی حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق امریکہ اقتصادی پابندیوں اور فوجی دباؤ کے ذریعے ایران کو کمزور کرنا چاہتا ہے، لیکن ایرانی قیادت ہر طرح کے چیلنج کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے۔ اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی حلقوں میں یہ بحث تیز ہوگئی ہے کہ آیا یہ تنازع ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی فوج کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی فضائی دفاعی نظام نے کئی امریکی MQ-9 Reaper ڈرون مار گرائے جن کی مجموعی مالیت ۳۳۰؍ ملین ڈالر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ یہ ڈرون جدید نگرانی، انٹیلی جنس جمع کرنے اور درست نشانے والے حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریپر ڈرون جدید جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں کیونکہ وہ طویل وقت تک فضا میں رہ کر ہدف کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ان ڈرونز کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ امریکی حکام نے نقصانات کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے نقصانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے پاس مؤثر دفاعی صلاحیت موجود ہے۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ جو شہری امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ تعاون کریں گے ان کے اثاثے ضبط کر لیے جائیں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے دوران دشمن ممالک کی مدد کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین عام طور پر جنگی حالات میں نافذ کیے جاتے ہیں تاکہ جاسوسی یا اندرونی تعاون کو روکا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق تہران میں رہائشی عمارتوں پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تقریباً ۴۰؍ افراد ہلاک ہو گئے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے عام شہری متاثر ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ ایرانی حکومت نے اس واقعے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور عالمی برادری سے اس کی مذمت کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شہری علاقوں میں فوجی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔
امریکی انٹیلی جنس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ممکنہ عالمی ردعمل کے لیے اپنے خفیہ نیٹ ورکس کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق ایران کے مبینہ ’’سلیپر سیل‘‘ مختلف ممالک میں موجود ہو سکتے ہیں جو ضرورت پڑنے پر کارروائی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ان نیٹ ورکس کا مقصد ایران کے خلاف کارروائیوں کا عالمی سطح پر جواب دینا ہو سکتا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے دیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید تنازعات میں خفیہ نیٹ ورکس اور معلوماتی جنگ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، لیکن اس طرح کی رپورٹس نے عالمی سلامتی اداروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران ممکنہ عالمی ردعمل کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تہران مختلف خطوں میں اپنے اتحادی نیٹ ورکس اور غیر روایتی صلاحیتوں کو فعال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے جواب میں کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ایرانی حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف اپنے دفاع کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ عالمی سلامتی ماہرین اس صورتحال کو انتہائی حساس قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے بین الاقوامی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ موجودہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ تہران کرے گا، نہ کہ واشنگٹن یا تل ابیب۔ ایرانی فوجی قیادت کے مطابق ایران کسی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے تحت اپنے دفاعی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ حکام کے مطابق ایران کے پاس دفاعی اور تزویراتی صلاحیتوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو تہران اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی فوجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگ کی سمت اور انجام کا تعین میدانِ جنگ اور سیاسی فیصلوں دونوں سے ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران کسی فوری جنگ بندی کے بجائے طویل مزاحمت کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ موجودہ حالات میں تہران امریکہ کے ساتھ کسی نئے مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ماضی میں سفارتی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے باوجود ایران پر پابندیاں اور دباؤ جاری رہے۔ عراقچی نے اس صورتحال کو ’’انتہائی تلخ تجربہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اب پہلے اپنی سلامتی اور قومی مفادات کو یقینی بنائے گا۔ ان کے مطابق جب تک ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں اور دباؤ ختم نہیں ہوتے، اس وقت تک کسی بامعنی سفارتی عمل کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران مذاکرات کے اصولی طور پر خلاف نہیں، لیکن موجودہ ماحول میں اعتماد کی کمی بہت زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ تنازع کے فوری سفارتی حل کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔