پیرس 9/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی): فرانس کے صدر ایمانیول میکرون Emmanuel Macron نے خبردار کیا ہے کہ اگر قبرص Cyprus پر حملہ ہوتا ہے تو اسے پورے یورپ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پس منظر میں فرانس اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز Strait of Hormuz کو دوبارہ کھولنے کے لئے ایک دفاعی بحری مشن کی تیاری کر رہے ہیں۔
قبرص کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ اس مشن کا مقصد جنگ کی شدید ترین صورتحال ختم ہونے کے بعد کنٹینر جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لئے بحری اسکواڈ فراہم کرنا ہے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل دوبارہ بحال ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ مشن میں یورپی اور دیگر اتحادی ممالک شامل ہوں گے اور اس کے تحت آٹھ جنگی جہاز، دو ہیلی کاپٹر کیریئرز اور ایک طیارہ بردار بحری بیڑا بحیرہ روم، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کے اطراف تعینات کئے جائیں گے تاکہ تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
میکرون نے یہ بیان قبرص کے صدر نیکوس کریسٹوڈولائیڈس Nikos Christodoulides اور یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میٹسوٹاکیس Kyriakos Mitsotakis کے ساتھ مشترکہ گفتگو کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خالصتاً دفاعی اور معاون نوعیت کا مشن ہوگا جس کا مقصد سمندری تجارت کا تحفظ ہے۔
دریں اثنا یوروپین یونین European Union نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں سمندری آمد و رفت کے تحفظ کے لئے اپنی کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لئے تیار ہے۔ یورپی یونین اس سے قبل بھی بحیرہ احمر میں اپنی بحری مشن کو تقویت دینے پر غور کر رہی ہے۔
ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب Islamic Revolutionary Guard Corps نے آبنائے ہرمز میں غیر ملکی جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث اس اہم عالمی گزرگاہ میں بحری ٹریفک تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے اور خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کے بڑے آئل ٹینکرز اسی راستے کے ذریعے دنیا بھر تک پہنچتے ہیں۔
فرانسیسی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے Cyprus پر ڈرون حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد فرانس نے اپنا طیارہ بردار بحری جہاز Charles de Gaulle aircraft carrier سمیت بحری اور فضائی دفاعی یونٹس خطے میں تعینات کئے ہیں۔ پیرس کا کہنا ہے کہ خطے میں اس کی تمام سرگرمیاں سختی سے دفاعی نوعیت کی ہیں۔