ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گوری لنکیش پرداغی گئیں گولیاں مجھے بھی چھلنی کرسکتی ہیں؛ مجھے بھی قتل کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں: مینگلور میں دنیش امین مٹو کا بیان

گوری لنکیش پرداغی گئیں گولیاں مجھے بھی چھلنی کرسکتی ہیں؛ مجھے بھی قتل کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں: مینگلور میں دنیش امین مٹو کا بیان

Mon, 25 Sep 2017 12:00:06    S.O. News Service

منگلورو،25/ستمبر(ایس او نیوز) کنڑا زبان کی بے باک صحافی گوری لنکیش کو چھلنی کرنے والی گولیاں میرے سینے میں بھی اتاری جاسکتی ہیں۔ چند دن پیشتر کارکلا میں منعقدہ سنگھ پریوار کے ایک اجلاس میں مٹوپر لگام کسنے اور ٹھکانے لگانے کی باتیں سنی گئی ہیں۔ امین مٹو کو ٹھکانے لگائے جانے کی اطلاع مجھے خفیہ ایجنسی کے ذریعہ معلوم ہوئی ہے۔چند دن قبل گوری لنکیش پر داغی گئی گولیاں میرے سینے کو بھی چھلنی کرسکتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیر اعلیٰ کے میڈیا صلاح کار دنیش امین مٹونے کیا۔

برہمشری نارائن گرو کے 163ویں سالگرہ کی مناسبت سے سینٹ الوشیس کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم کو کرنے کے کام بہت ہیں، موت حقیقت ہے، مجھے موت سے کوئی ڈراور خوف بھی نہیں ہے۔ لیکن یاد رہے کہ ایک غیر اطمینان زندگی گزارتے ہوئے مرنااچھا نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ زندگی میں بہت سارے کام باقی رکھتے ہوئے  بے اطمینانی کے ساتھ موت کی آغوش میں جانا نہیں چاہتا، بس یہی فکر ہے۔حال ہی میں آر ایس ایس کے بہت سارے پروگرام ہوئے ان پروگراموں میں مٹو کو ٹھکانے لگانے کے لئے مشورے ہوئے ہیں ،قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان اجلاسوں میں کلڈ کاپربھاکر کی شمولیت کی بھی اطلاع ہے۔ خیال رہے کہ چند بائیں  بازو اور ترقی پسند دانشوروں کی حفاظت کی خاطر ریاست حکومت نے سکیورٹی فراہم کرنے  کا فیصلہ کیا  ہے۔

5؍ستمبرکو بنگلور کے راجیشوری نگر میں واقع گھر کے بالکل سامنے معروف صحافی گوری لنکیش کو موت کے گھاٹ اتارنے کا واقعہ رونماہواتھا۔ گوی کے قتل کے بعد حکومت نے ترقی پسنددانشوروں کو سیکوریٹی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب وزیراعلیٰ کے میڈیا صلاح کار دنیش امین مٹو کو بھی جان سے مارنے کی دھمکی کا انکشاف ہواہے، حکومت کو چاہئے کہ اس جانب توجہ مبذول کرے۔مٹونے مزید کہا کہ برہمشری کی جدوجہد توہم پرستی، ضعیف الاعتقادی ،بے روزگاری اور غربت کے خلاف تھی، مظلوم اور پسماندہ طبقات کے حقوق اور تعلیم کے لئے انہوں نے ساری زندگی لگادی، اس حیثیت وہ نہ صرف مذہبی اصلاحی کار تھے بلکہ ایک عمدہ سیاست داں بھی تھے، ملک میں تبدیلیاں لانے کے لئے نوجوانوں کی قوت اہم کردار اداکرتی ہے۔ برہمشری نے کیرلا میں مذہبی اصلاح کاکام شروع کیا تو اس دوران معروف شاعر آشن نے تعلیمی سدھارپر کام کیا۔ یہ تمام افزود نوجوان تھے، نوجوانی کے ایام میں انہوں نے انقلابی کام انجام دیا، جس کی وجہ سے کیرلا تعلیمی طورپر سارے ملک میں سبقت لے گیا۔ انہوں نے کہا کہ وویکانندا، نارائن ودیگر سنجیدہ قسم کے افراد کی جانب سے متعارف ہندو دھرم کو میں مانتاہوں، کیونکہ ان لوگوں نے دھرم کے نام پر توہم پرستی کی گنجائش نہیں نکالی۔سادگی کے ساتھ دیوتاکو پوجنے کی اجازت ہر کسی کو ہونی چاہئے۔ مندر میں ذاتی بھید بھاؤ نہیں ہوناچاہئے۔ برہمشری نارائن کو مندر میں جانے سے روک دیاگیاتو انہوں نے پسماندہ طبقات کے لئے شیولنگا قائم کرتے ہوئے سادگی کے ساتھ بغیر بھید بھاؤ کے پوجاکا آغاز کردیا، ہمارے ضلع میں دھرم کے نام پر کئی لوگوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنایاگیاہے، ضلع میں نارائن کی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔


Share: