گلبرگہ،22 ؍اکتوبر(ایس او نیوز)ضلع کے آندولہ میں ایک مسلم چائے کی دکان پر مبینہ طور پر سری رام سینا اور ان کے کارکنوں کے ذریعے حملہ کرکے ہفتہ گذرجانے کے بائوجود ضلعی انتظامیہ کی خاموشی پردلت تنظیموں اور مسلم تنظیموں میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس ملزمین بشمول سری رام سینا لیڈر سدلنگیا سوامی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کررہی ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق گلبرگہ کے تعلقہ جیورگی کے دیہات اندولہ کے بس اسٹینڈ پر ضعیف و معمر شخص عبد القادر کی چائے کی دوکان ہے گذشتہ ہفتہ مبینہ طور پر سری رام سینا کے کارکنوں نے ان پر صرف اس وجہ سے حملہ کیا کہ وہ مسلمان ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کی بری طرح پیٹائی کے بعد وہ آج کل کافی بے بس نظر آ رہے ہیں اور وہ خوف سے ایسے سہمے ہوئے ہیں کہ بات بھی نہیں کرپا رہے ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ ان کی چائے کی دکان خوش قسمتی سے ماسٹر پلان میں بچ گئی، اور یہ بات سری رام سینا کے مقامی کارکنوں کو ہضم نہیں ہوئیاور انھوں نے آکر ان پر حملہ کر دیا اور ان کے ساتھ شدید طور پر مار پیٹ کرکے زخمی کر دیا ۔انہیں پہلے گلبرگہ جنرل اسپتال میں بھرتی کیا گیا تھا، مگر اب ایک پرائیوٹ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ تمام واقعے سے واقف ہونے کے بائوجود کوئی کاروائی نہیں کررہی ہے۔ گلبرگہ کے نگراں کار وزیر ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل نے بھی اسپتال پہنچ کر زخمی عبدالقادر کی عیادت کی ہے ، لیکن سد لنگیا سوامی اور دیگر ملزمین کی گرفتاری کے تعلق سے صرف یقین دہانی کرا رہے ہیں۔ پولیس اور ضلع انتظامیہ کی اس خاموشی سے دلت اور مسلم تنظیمیں چراغ پا ہیں۔
مقامی لوگوں کی مانیں تو گنیش وسرجن کی تقریب کے دوران سدلنگیا پر اشتعال پھیلانے کے الزام میں گزشتہ26 ستمبر کو غیر ضمانتی ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔ مگرضلعی انتظامیہ ان کو گرفتار نہیں کررہی ہے۔