کانگریس اور جے ڈی ایس میں سمجھوتے کا امکان،شنکر مورتی کی تردید
بنگلورو۔23؍جون(ایس او نیوز/عبدالحلیم منصور) قانون ساز کونسل میں کانگریس اور جے ڈی ایس کے ذریعہ چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے عہدوں پر قبضہ کیلئے مفاہمت سے متعلق تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔جس کے ذریعہ جے ڈی ایس راجیہ سبھا اور کونسل انتخابات میں اس کی حمایت نہ کرنے پر بی جے پی کو سبق سکھانے کا فیصلہ لیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ کانگریس اور جے ڈی ایس میں مفاہمت سے متعلق سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا نے رضامندی ظاہر کردی ہے، جس کے تحت چیرمین کے عہدہ پر جے ڈی ایس کے بسوراج ہوراٹی کا انتخاب یقینی بتایا جارہاہے، جو سدرامیا کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ 75 رکنی کونسل میں کانگریس کے 30بی جے پی کے 24 جے ڈی ایس کے 12اور پانچ آزاد اراکین کونسل سمیت71اراکین موجود ہیں۔ وائی اے نارائن سوامی کے استعفیٰ سے مخلوعہ نشست کیلئے عنقریب انتخابات منعقد ہونے والے ہیں جبکہ حکومت کے ذریعہ تین اراکین کی نامزدگی بھی عنقریب عمل میں آنے والی ہے۔فی الحال کونسل میں بی جے پی اور جے ڈی ایس مفاہمت کے سبب چیرمین کے عہدہ پر بی جے پی کے ڈی ایچ شنکر مورتی اور ڈپٹی چیرمین کے عہدہ پر جے ڈی ایس کے مری تبے گوڈا فائز ہیں۔ حال ہی میں منعقدہ کونسل انتخابات میں کانگریس کو چار ، بی جے پی کو دو اور جے ڈی ایس کو ایک نشست پر کامیابی ملی تھی۔ جس کے سبب دونوں پارٹیوں میں اتحاد سے بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا جاسکتاہے، جس سے سب سے زیادہ فائدہ حکمران کانگریس پارٹی کو ہونے والا ہے، اسی مقصد کے تحت کانگریس نے جے ڈی ایس سے مفاہمت کی پہل کی ہے۔ کونسل چیرمین کے انتخاب میں کامیابی کیلئے 38 اراکین کی ضرورت ہے۔ جبکہ کانگریس کے پاس 30اراکین موجود ہیں ، جے ڈی ایس کی حمایت سے آسانی کے ساتھ چیرمین کا عہدہ حاصل کیاجاسکتاہے۔ جبکہ موجودہ چیرمین شنکر مورتی کا کہنا ہے کہ وہ عہدہ پر برقرار رہیں گے کیونکہ خود دیوے گوڈا نے ان کی ستائش کی ہے۔ اگر بی جے پی اور جے ڈی ایس کے تعلقات میں بگاڑ پیدا نہ ہوا تو چیرمین کا عہدہ ان کے پاس ہی برقرار رہے گا۔ موجودہ صورتحال میں بی جے پی اور جے ڈی ایس کے تعلقات خوشگوار ہیں۔ ایسے میں کانگریس کو اس عہدہ پر قبضہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ شنکر مورتی نے بتایاکہ دیوے گوڈا کے جنم دن کے موقع پر وہ ہمیشہ ان سے ملاقات کرکے آشرواد لیتے ہیں۔ اسی طرح حال ہی میں منعقدہ جنم دن کے موقع پر انہوں نے دیوے گوڈا سے ملاقات کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا، اس وقت تقریباً 45 منٹ تک گفتگو ہوئی ۔ تب دیوے گوڈا نے ان سے پوچھا تھاکہ کیا آپ کے عہدے کو کوئی خطرہ ہے؟ ۔ اس وقت ہی دیوے گوڈا نے ان کی کارکردگی سے متعلق ستائش کی تھی۔ جب تک دیوے گوڈا کا آشرواد انہیں حاصل ہے تب تک ان کے عہدہ کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایاکہ بی جے پی اراکین کونسل کی تعداد جب 38 تھے اس وقت وہ اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئے تھے، جب بی جے پی اراکین کی تعداد گھٹنے لگی، اس وقت نائب چیرمین کا عہدہ جے ڈی ایس کو دینے کے ذریعہ اس کی حمایت حاصل کی گئی تھی۔ فی الحال بی جے پی اراکین کی تعداد 23 ہے ۔اگر چیرمین کو شامل کرلیاگیاتو یہ تعداد 24ہوجائے گی، دو آزاد اراکین بھی بی جے پی کی حمایت میں ہیں اور جے ڈی ا یس کے بارہ اراکین موجود ہیں۔ ایسے میں بی جے پی اور جے ڈی ایس میں سمجھوتہ برقرار رہے گا ۔ اگر کانگریس کو اقتدار حاصل کرنا ہوتو موجودہ 30اراکین کے علاوہ نامزد ہونے والے تین اراکین اور تین آزاد اراکین کی حمایت کے باوجود اسے ایک رکن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ دیوے گوڈا کے ساتھ ان کے تعلقات چالیس سال پرانے ہیں ایسے میں انہیں امید ہے کہ دیوے گوڈا انہیں مایوس نہیں کریں گے۔