بنگلورو،14؍فروری(ایس او نیوز) ریاست میں سنگین خشک سالی کی وجہ سے مالی بحران سنگین ہوتا جارہا ہے۔اسی لئے مرکزی حکومت قومی اور تجارتی بینکوں سے کاشتکاروں کی طرف سے لئے گئے قرضوں کومعاف کردے تو ریاستی حکومت بھی کوآپریٹیو اداروں کے ذریعہ کسانوں نے جو قرضہ جات لئے ہیں ان میں سے آدھے معاف کرنے تیار ہے۔آج اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر کی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ریاست میں خشک سالی کی سنگین صورتحال ہے۔ ان حالات میں مرکزی حکومت کو چاہئے کہ کسانوں کی مدد کیلئے آگے آئے اور ان کے قرضہ جات معاف کردے۔ مرکزی حکومت اگر یہ قدم اٹھائے گی اور کم از کم 50فیصد قرضہ جات بھی اگر معاف کردے گی تو ریاستی حکومت بھی اپنے 50 فیصد قرضہ جات معاف کرنے تیار ہے۔انہوں نے کہاکہ کسانوں نے قومی بینکوں سے بھاری رقم قرضہ کے طور پر حاصل کی ہے۔اعداد وشمار کے مطابق 33لاکھ کسانوں نے 42ہزار کروڑ روپیوں کا قرضہ حاصل کیا ہے۔ ریاست کے کوآپریٹیو بینکوں میں 23 لاکھ کسانوں نے 10500 کروڑ بطور قرضہ حاصل کیا ہے۔ تجارتی بینکوں سے رعیتوں نے جو قرضہ حاصل کیا ہے اگر مرکزی حکومت انہیں معاف کرنے کا فیصلہ لے تو ریاستی حکومت اس کے نقش قدم پر آگے بڑھتے ہوئے کسانوں کے قرضہ جات معاف کردے گی۔ انہوں نے کہاکہ امسال فصلوں کے بھاری نقصان کی وجہ سے حکومت کسانوں کے کھاتوں میں امداد کی راست رقم جمع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ بیدر ضلع میں حکومت کو 19715 روپے کسانوں کو فی کس معاوضہ کیلئے جمع کئے جارہے ہیں۔