نئی دہلی، 13/اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)بی جے پی لیڈران کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے سوال کیا کہ اگر 75 سالوں میں کچھ نہیں کیا گیا، تو اتراکھنڈ میں ایسی ہنر کس طرح وسعت پائی جہاں سے آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور ملک میں ایمس آئے۔ چاند پر چندریان کیسے اُترا... اگر پنڈت جواہر لال نہرو نے انھیں نہیں بنایا ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا؟‘ اتراکھنڈ کے نینی تال میں واقع رام نگر میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ بی جے پی لیڈران ہمیشہ کانگریس پر الزام لگاتے ہوئے سوال کرتے رہتے ہیں کہ کانگریس نے کیا کیا، حالانکہ وہ بھول جاتے ہیں کہ کانگریس پارٹی تو گزشتہ دس سالوں میں حکومت میں ہے ہی نہیں، اقتدار پر تو بی جے پی قابض ہے۔
اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ ’’اتراکھنڈ سے میری فیملی کا بہت پرانا رشتہ ہے۔ یہاں پر ہمارے بچپن کی کچھ یادیں ہیں۔ میرے والد، بھائی، بیٹے اور میں نے بھی یہیں سے تعلیم حاصل کی ہے۔ ہمیں جب بھی چھٹی ملتی، اپنے بچوں کے ساتھ یہاں گھومنے آتی۔ میں خود کو خوش قسمت مانتی ہوں کہ آج میں یہاں رام نگر آئی ہوں۔‘‘ سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’مودی جی نہیں بلکہ ہم سب اتراکھنڈ، ہماچل پردیش کو ’دیو بھومی‘ کہتے ہیں۔ لیکن جب اسی دیو بھومی ہماچل میں شدید آفت آئی تو وہاں نہ مودی جی نظر آئے اور نہ ہی بی جے پی کا کوئی کارکن۔ وہاں کانگریس لیڈران، وزراء اور خود وزیر اعلیٰ راحت پہنچا رہے تھے۔ مودی حکومت نے راحت کا ایک پیسہ آج تک نہیں دیا۔ مودی جی کے لیے دیو بھومی صرف انتخاب کے وقت ہوتی ہے، کیونکہ یہ ان کی عادت بن گئی ہے اور سچائی بہت دور ہے۔‘‘
مودی حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ہندو مذہب میں عقیدہ کا سب سے بڑا ثبوت ’قربانی‘ ہوتا ہے۔ میں نے 19 سال کی عمر میں اپنے والد کی لاش اپنی ماں کے سامنے رکھی دیکھی ہے۔ میں شہادت اور قربانی کو سمجھتی ہوں۔ یہ میری فیملی کو کتنی بھی گالیاں دیں، میرے شہید والد کی بے عزتی کریں لیکن ہم خاموش رہتے ہیں، کیونکہ یہ ہماری جدوجہد کو نہیں سمجھتے۔ ہم خاموش رہتے ہیں کیونکہ اس ملک کے لیے عقیدہ اور سچی عقیدت ہمارے دل میں ہے۔‘‘
اگنی ویر معاملے پر کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ ’’پی ایم مودی نے یہاں اپنی تقریر میں فوجیوں کی بات کی، لیکن اگنی ویر منصوبہ کو لانے والے کون تھے ؟ ہزاروں نوجوان فوج میں جانے کے لیے کئی سالوں تک محنت کرتے ہیں، کیونکہ ان میں حب الوطنی کا جذبہ ہوتا ہے۔ ان کو امید ہوتی ہے کہ وہ ملازمت میں رہ کر ملک کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کی بھی خدمت کریں گے۔ لیکن مودی جی نے اگنی ویر جیسا منصوبہ لا کر نوجوانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔‘‘
گاندھی نے کہا کہ ’’پی ایم مودی کہتے ہیں سب بدعنوان ہیں، بس وہی پاک صاف ہیں۔ خود کی تعریف خود ہی کرتے ہیں۔ ای ڈی، سی بی آئی، آئی ٹی کا استعمال کر کے لیڈروں کو اپنی پارٹی میں لانے اور حکومت گرانے میں اتنے مصروف ہیں کہ روزگار، مہنگائی سب کچھ بھول گئے ہیں۔ پھر الیکٹورل بانڈ میں انکشاف ہوا تو چندہ دو-دھندا لو والی بات سامنے آ گئی۔ اب آپ بتائیے کہ بدعنوان کون ہے؟‘‘ حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’پی ایم مودی بتائیں کہ انکیتا بھنڈاری، جس کا جنھوں نے استحصال کیا اور قتل کیا، ان لوگوں کو تحفظ کس نے دیا؟ اناؤ اور ہاتھرس کی متاثرہ کو جلانے والوں کو تحفظ کس نے دیا؟ منی پور میں ایک فوجی کی بیوی کو برہنہ کرکے پورے گاؤں کے سامنے گھمانے والوں کو تحفظ کس نے دیا؟ اولمپک میڈل جیت کر آئی خواتین پہلوانوں پر مظالم کرنے والوں کو کس نے تحفظ دیا؟‘‘