ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کالج میں مسلم لڑکیوں کےبرقعہ پہننے پر اے بی وی پی کارکنوں کو اعتراض؛ سرسی میں کارکنوں نے اوڑھی زعفرانی شال

کالج میں مسلم لڑکیوں کےبرقعہ پہننے پر اے بی وی پی کارکنوں کو اعتراض؛ سرسی میں کارکنوں نے اوڑھی زعفرانی شال

Sun, 19 Feb 2017 11:21:13    S.O. News Service

سرسی ،18؍فروری (ایس او نیوز) جیسے جیسے ریاست کرناٹک میں انتخابات قریب آتے قریب جارہے ہیں، سنگھ پریوار کی تنظیمیں اقلیتوں کو ہراساں کرکے ماحول گرم کرنے کی کوششوں میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب ان تنظیموں کا راست نشانہ سرکاری کالجوں میںمسلم لڑکیوں کا برقعہ ہے۔ جس کے خلاف لگتا ہے کہ ہندتوا وادی تنظیموں نے مسلم ماحول گرمائے رکھنے کی مہم چھیڑدی ہے۔ تازہ واقعہ سرسی کے ایم ای ایس کامرس کالج کا ہے جہاں پر برقعے کے خلاف احتجاج درج کروانے کے لئے اکھل بھارتیہ ودھیارتی پریشد (اے بی وی پی) کے لڑکوں نے زعفرانی شال اوڑھ کر کالج میں حاضری دی۔

ان زعفرانی شال والے مظاہرین کا کہنا تھا کہ کالج میں کچھ لڑکیاں برقعہ پہن کر آتی ہیں۔ پھر برقعہ اتارنے کے بعد سر پر اسکارف اوڑھ کر کلاس میں حاضر ہوتی ہیں۔ اُن کے مطابق یہ غلط ہے ۔ یونیفارم سب کے لئے ایک ہی ہونا چاہیے ۔ کسی ایک مذہب کے لئے ایک اور دوسرے کے لئے الگ سا یونیفارم نہیں ہوسکتا۔تمام طلباء کو ایک ہی قسم کے یونیفارم میں تعلیم حاصل کرنا چاہیے۔

کالج کے پرنسپال پروفیسر روی نائک نے کہا کہ کالج میں ہفتے میں چار دن مکمل یونیفارم ہوتا ہے۔ دو دن کے لئے رنگین کپڑے پہننے کی چھوٹ ہے۔ لڑکیوں کے لئے جینس اورسلیو لیس ڈریس ممنوع ہے۔ کلاس میں کوئی بھی لڑکی برقعہ پہن کر نہیں بیٹھتی۔ البتہ کچھ لڑکیاں اسکارف اوڑھتی ہیں۔ اس ضمن میں ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کوئی واضح ہدایت نہیں ہے۔ پھر کالج کے ذمہ داران لڑکیوں سے بات چیت کرکے یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

 


Share: