منگلورو2/جنوری (ایس او نیوز) جنوبی کینرا کے رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل نے پولیس والوں کو کھلے عام یہ دھمکی دی ہے کہ پجیر گرام کے امیش گانیگا کے بیٹے کارتھک راج کے قاتلوں کو دس دنوں کے اندر گرفتار کرنا ممکن نہیں ہوا تو پھر ہمارے لئے جنوبی کینرا کو آگ لگا دینا ممکن ہے۔
مسٹر کٹیل کارتھک کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کوناجے پولیس اسٹیشن کے روبرو ہندو ہتھا رکھشنا ویدیکے کے تحت منعقدہ احتجاجی مظاہرہ میں اپنے اشتعال انگیز خطاب کے دوران اس طرح کی دھمکی دی۔ اس رکن پارلیمان کا یہ بیان سوشیل میڈیا میں وائرل ہونے کے بعد ان کے خلاف سخت برہمی اور خوف کا ماحول پید ا ہوگیا ہے۔مسٹر کٹیل نے کہا کہ منگلورو ودھان سبھا حلقے میں پچھلے کچھ عرصے سے سنگین وارداتیں انجام دی جارہی ہیں جس میں کارتھک کا قتل بھی شامل ہے۔ ان معاملات میں ملزموں کو گرفتار کرنے اور سزادلانے میں پولیس اور سرکار ناکام ہوگئے ہیں۔ ایسی تمام وارداتوں کے لئے اس علاقے کے ایم ایل اے ہی پوری طرح ذمہ دار ہیں۔اس لئے اگر دس دنوں کے اندر کارتھک کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیاگیا تو پھر کوناجے پولیس اسٹیشن کے روبرو پھر ایک بار احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
کٹیل نے پولیس پر گرجتے برستے ہوئے پوچھا کہ انہیں ملزموں کو گرفتار کرنے کی جرأت کیوں نہیں ہے۔ کیا محکمہ پولیس کانگریس کا ایجنٹ بن گیا ہے؟یہاں میلے اورجاترے کے موقع پر مرغ بازی کے لئے اجازت مانگنی ہوتو تم لوگوں کے پیر پکڑنا ہوتا ہے لیکن پولیس اسٹیشن کے سامنے ہی قتل ہوجائے تو قاتلوں کو پکڑنا تم لوگوں کے لئے کیوں ممکن نہیں ہے؟کٹیل نے یہ الزام لگایا کہ کارتھک کے قتل کے پیچھے کیرالہ کے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔اس موقع پر بی جے پی کے علاقائی صدر سنتوش کمار رائے بولیار،ہندو ہتھا رکھشنا ویدیکے وٹلا سرکل کے کنوینر گن راج بھٹ کدیل وغیرہ نے بھی احتجاجی مظاہرین سے خطاب کیا۔
خیال رہے کہ سابق مینگلور تعلقہ پنچایت صدر اُمیش گنیگا کے فرزند کارتھیک راج پر اسائی گولی میں 22 اکتوبر 2016 کو قاتلانہ حملہ ہوا تھا، جس میں وہ شدید زخمی ہوا تھا، جبکہ اگلے روز زخموں کی تاب نہ لاکر وہ چل بسا تھا۔
رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل نے اپنے خطاب میں کیا کہا تھا، مندرجہ ذیل وڈیو نیوز میں دیکھ اور سن سکتے ہیں: