بنگلورو، 16 مارچ (پی ٹی آئی/ایس او نیوز): کرناٹک کے وزیر برائے وقف و اقلیتی بہبود بی زیڈ ضمیر احمد خان نے پیر کے روز ریاستی قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ ریاست میں وقف کی 17,969 ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضہ ہو چکا ہے، اور ان میں زیادہ تر قبضے خود مسلم برادری کے افراد کی جانب سے کیے گئے ہیں۔
وزیر موصوف نے یہ معلومات افضل پور سے کانگریس کے رکن اسمبلی ایم وائی پاٹل کے سوال کے جواب میں وقفۂ سوالات کے دوران فراہم کیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں وقف کی کل 1,12,860 ایکڑ اراضی موجود ہے، جس میں سے صرف 20,054 ایکڑ زمین فی الحال وقف کے قبضے میں ہے۔ ان کے مطابق 17,969 ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضہ کیا جا چکا ہے، جبکہ 47,263 ایکڑ زمین انام ابولیشن ایکٹ کے تحت اور 23,627 ایکڑ زمین لینڈ ریفارمز ایکٹ کے تحت چلی گئی ہے۔
ضمیر احمد خان نے بتایا کہ کانگریس حکومت کے برسر اقتدار آنے اور ان کے محکمہ سنبھالنے کے بعد ریاست بھر میں وقف عدالتیں منعقد کی گئیں تاکہ وقف املاک پر سے قبضے ہٹانے کے اقدامات کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ 1,12,860 ایکڑ وقف اراضی حکومت نے نہیں بلکہ نجی افراد اور تنظیموں نے مسلم برادری کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کی تھی۔ وزیر کے مطابق وقف اراضی پر قبضے زیادہ تر مسلمانوں نے ہی کیے ہیں، نہ کہ مندروں یا دیگر برادریوں نے۔
انہوں نے کہا: “وقف اراضی پر قبضے کسی اور نے نہیں بلکہ خود مسلمانوں نے کیے ہیں۔ ان قبضوں کو ہٹانے کے لیے وقف عدالتیں منعقد کی گئیں، تاہم بی جے پی نے اسے ایک سیاسی مسئلہ بنا دیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ان معاملات کو مرحلہ وار حل کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو مسلمانوں کی جانب سے وقف اراضی پر قبضے ہٹانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، بلکہ اعتراض اس بات پر ہے کہ بعض کسانوں کی زمین، تعلیمی اداروں کی اراضی (جیسے وہ اسکول جہاں بھارت رتن سر ایم وشویشوریا نے تعلیم حاصل کی) اور بعض مندروں کی زمین کو بھی وقف اراضی قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی دراصل وقف املاک پر قبضوں کی مکمل تحقیقات کے حق میں ہے۔
اس پر وزیر ضمیر احمد خان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی مندر یا تعلیمی ادارے کی زمین کو وقف قرار دے کر اس پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کر رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نجی افراد، خصوصاً مسلمانوں کی جانب سے کیے گئے قبضوں کی نشاندہی اور ان کے خاتمے کے لیے ہی ریاست بھر میں وقف عدالتیں منعقد کی گئی تھیں۔