ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چوتھے مرحلے کی انتخابی مہم ختم، کل پولنگ، کئی اہم لیڈروں کا وقار داؤ پر

چوتھے مرحلے کی انتخابی مہم ختم، کل پولنگ، کئی اہم لیڈروں کا وقار داؤ پر

Sun, 12 May 2024 12:48:11    S.O. News Service

نئی دہلی، 12/مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلے کیلئے انتخابی مہم کا شور سنیچر کی شام6بجے تھم گیا۔ اس مرحلے میں ۹؍ریاستوں اور ایک یونین ٹیریٹری (مرکز کے زیر انتظام علاقہ ) کی ۹۶؍  پارلیمانی سیٹوں  پرایک ہزار ۷۱۷؍ امیدوار میدان میں  ہیں۔ تشہیری مہم کے آخری دن بی جےپی اور کانگریس سمیت تمام پارٹیوں کے سرکردہ لیڈروں نے انتخابی اجلاس اور روڈشو کر کے ووٹروں کو اپنے حق میں  ہموار کرنے کی آخری کوشش کی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس نے تمام پارلیمانی حلقوں میں منصفانہ اور پرامن ووٹنگ کیلئے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ادیشہ اور جھار کھنڈ میں انتخابی مہم میں حصہ لیا تو امیت شاہ نے تلنگانہ میں خطاب کیا۔ پرینکا گاندھی نے ظہیر آباد میں ریلی میں شرکت کی۔ کانگریس صدر ملکا رجن کھرگے پٹنہ کی انتخابی ریلی میں شریک رہے۔ 

  چوتھے مرحلے میں  جن امیدواروں  کی ہار یا جیت کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں  میں  محفوظ ہوگا ان میں اکھلیش یادو(قنوج، یوپی)، مہوا موئترا (کرشنا نگر، مغربی بنگال)، ادھیر رنجن چودھری (بہرام پور، مغربی بنگال)، اسد الدین اویسی (حیدرآباد، تلنگانہ ) پنکجا منڈے(بیڑ، مہاراشٹر)، امتیاز جلیل(اورنگ آباد، مہاراشٹر)، راؤ صاحب دانوے ( جالنہ، مہاراشٹر)شتروگھن سنہا(آسنسول، مغربی بنگال) اور گری راج سنگھ (بیگوسرائے، بہار) شامل ہیں۔ 

 چوتھے مرحلے میں مہاراشٹر کے۱۱؍ حلقوں میں سنیچر کی شام ۶؍ انتخابی مہم کا اختتام ہو گیا۔ ان میں مغربی مہاراشٹر، شمالی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ علاقے کے۱۱؍ حلقے ہیں۔ چوتھے مرحلے میں جن حلقوں میں انتخابات ہونے ہیں ان میں پونے، شرور، ماول، احمد نگر، شرڈی، نندوربار، جلگاؤں، راور بیڑ، اورنگ آباد اور جالنہ حلقے شامل ہیں۔ 

  مہاراشٹر کے ان۱۱؍ حلقوں میں مجموعی طور پر ۲۹۸؍ امیدوار میدان میں ہیں۔ ان حلقوں میں اصل انتخابی جنگ این ڈی اے کی قیادت والی مہاوتی اور مہاوکاس اگھاڑھی کی قیادت والی اندیا اتحاد کے درمیان ہے۔ جبکہ ونچیت بہوجن اگھاڑھی کے امیدوار بھی کئی حلقوں  میں   میں اپنا ’’کمال‘‘ دیکھا سکتے ہیں۔ 

 بہار کے ۵؍پارلیمانی حلقوں دربھنگہ، اجیار پور، سمستی پور (ایس یو)، بیگوسرائے اور مونگیرجبکہ اترپردیش کی۱۳؍ سیٹوں شاہجہاں پور، کھیری، دھوراہارا، سیتا پور، ہردوئی، اناؤ، فرخ آباد، اٹاوہ، قنوج، کانپور، اکبر پور اور بہرائچ لوک سبھا حلقوں میں ووٹنگ ہوگی۔ 

  آندھرا پردیش کی تمام ۲۵؍ پارلیمانی سیٹوں  پر پیر کو ایک ہی مرحلے میں   ووٹ ڈالے جائیں گے۔ یہاں  بی جےپی تیلگو دیشم پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑ رہی ہے جبکہ حکمراں  جماعت وائی ایس آر کانگریس اکیلے الیکشن لڑ رہی ہے۔ اسی طرح  تلنگانہ میں  بھی ایک ہی مرحلے میں تمام ۱۷؍ سیٹوں   پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ تلنگانہ میں جہاں  سے بی جےپی نے سابقہ پارلیمانی الیکشن میں   ۴؍ سیٹیں جیتی تھیں، اس بار کانگریس کو اپنی سیٹوں کی تعداد میں  اضافے کی امید ہے۔ یہاں  کانگریس اور بی آر ایس کے علاوہ مجلس اتحادل المسلمین اہم پارٹی ہے جب کہ بی جےپی بھی یہاں  دھیرے دھیرے اپنی پکڑ مضبوط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ 

 مدھیہ پردیش کی ۸؍پارلیمانی سیٹوں دیواس، اجین، مندسور، رتلام، دھار، اندور، کھرگون اور کھنڈوا میں پیر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اسی طرح  جھارکھنڈ کی ۴؍ سیٹوں  سنگھ بھوم، کنتی، لوہار ڈاگرا اور پلامؤ میں  چوتھے مرحلے میں  ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اسی طرح ادیشہ کی ۴؍ سیٹوں  پر بھی چوتھے مرحلے میں  ہی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ان کے علاوہ جموں  کشمیرکی سری نگر سیٹ پر بھی پیر کو ہی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ 

  تمام ریاستوں  میں  وزیراعظم مودی، ا میت شاہ، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، ملکارجن کھرگے، ممتا بنرجی، ادھیر رنجن چودھری اور دیگر لیڈروں  نے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ اپوزیشن چونکہ انڈیا اتحاد کے طور پر کئی سیٹوں میں لڑ رہاہے اس لئے بہتر کارکردگی کی امید ہے۔ 


Share: