چنتامنی:14 /فروری (محمد اسلم/ایس او نیوز)شہر کے وارڈ نمبر15 کے حدود میں آنے والے ٹیپونگر ونائک نگر میں گزشتہ چند دنوں سے پانی کی سربراہی نہ کئے جانے کے خلاف برہم مکینوں نے منسپالٹی کمشنر وی۔منی سوامی کا گھیراؤ کرکے احتجاج کیا ۔آج جب منسپالٹی کی ٹیم ٹیپونگر وارڈ کا جائزہ لینے پہنچی تو وارڈ کے مکینوں نے کمشنر کا گھیراؤ کرلیااور شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیپونگر میں مسلسل کئی دنوں سے پانی کی سربراہی نہیں کی جارہی ہے وارڈ کے والومین سے باربار شکایت کرنے پر بھی یہی جواب ملتا ہے بورویلوں میں پانی نہیں ہے خواتین کو دور دارز علاقوں سے پیدل جاکر پانی لانا پڑتا ہے،جبکہ700رو پئے ادا کرکے ٹینکر سے پانی خریدنا پڑرہاہے احتجاجیوں نے کہا بورویلوں میں پانی ہونے کے باوجود واٹرمین پانی سربراہی نہیں کررہے ہیں اورجن علاقوں میں واٹرمین کو رشوت د ی جاتی ہے ان علاقے میں دن رات پانی کی سربراہی کی جاتی ہے۔
خواتین نے شدید برہمی کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ وارڈ میں والومینوں کی من مانی جارہی ہے ہفتے میں ایک مرتبہ پانی سربراہی نہیں کی جارہی ہے وارڈ کے کئی گلیوں میکے مکینوں والوں نے پچھلے چنددنوں قبل 3500روپئے منسپالٹی کو بل دیکر پانی کے نل ڈلوالئے لیکن ان نالوں میں پانی نہیں آرہا ہے محلے کے چند گلیوں میں کبھی کبھی پانی چند لمحوں کے لئے سپلائی ہوکرٹہر جاتا ہے اور چند گلیوں میں پانی بالکل ہی نہیں آتا ۔ٹیپونگر محلے میں اکثر غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہی زندگی بسر کررہے ہیں ا ن کے پاس پانی کے ٹینکر خریدنے کی سکت نہیں ہے ۔
کمشنر منی سوامی نے مکینوں کی شکایت کو سننے کے بعد وارڈ کے والومین روی کو طلب کر خوب لتاڑا اورکہاکہ بورویل میں پانی موجودہونے کے باجود کیوں محلوں کو ہفتہ میں دو مرتبہ پانی سپلائی نہیں کیا جارہا ہے اگر اسی طرح کے شکایتیں آتے رہے تو تمہارے خلاف قانونی کی کارروائی کی جائیگی منسپل کمشنرمنی سوامی نے آخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گرمی کے موسم میں بجلی کی کٹوتی میں بھی اضافہ ہورہا ہے اسلئے وارڈوں کو پانی سربراہی کرنے میں واٹرمینوں کو بھی دشواری ہورہی ہے عنقریب شہر کے تمام واٹرمینوں کو طلب کرکے ان کو ایک منصوبہ بناکر دیا جائیگا کہ کونسا وارڈ کو کس طرح پانی سربراہی کرنا چاہئے انہوں نے مزید بتایا ٹیپونگر کے جن گلیوں کے نالوں کو پانی نہیں سپلائی ہورہا ہے ان نالوں کو پانچ دنوں کے اندر درست کردیا جائیگا۔اس احتجاج میں شاہینہ ،مہر تاج،زیتون آپا ،شبانہ سلطانہ،محمودہ ،عشرت کوثر، نصرین تاج، زیب النساء ، فرحانہ سلطانہ ،سمیت کئی خواتین موجود تھیں۔