چنتامنی:13 /فروری(محمد اسلم/ایس او نیوز)بارش ٹھیک طرح سے نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی کاشکار کولار ۔چکبالاپور اضلاع کے تالاب سوکھ چکے ہیں جس سے کسان کافی مایوس ہیں لیکن حکومت کرناٹک سے جاری کردہ کیرے سنجیونی منصوبہ سے ان کسانوں کو بہت فائدہ ہوسکتا ہے ان باتوں کا خیال رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے ظاہر کیا ۔
آ ج تعلقہ کے کونپلی گرام میں راجیوگاندھی یوجنا کے تحت 15لاکھ فنڈ کی لاگت سے گرام پنچایت عمارت کیلئے سنگ بنیاداور تعلقہ کے نڈگورکی دیہات میں 18 لاکھ کی لاگت کے کیرے سنجیونی منصوبے کا افتتاح کرنے کے بعد وہ خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تعلقہ کے کئی تالاب سوکھ گئے جس سے تعلقہ کے کسانوں کے علاوہ عوام بھی بہت پریشان ہے ، ایسے میں حکومت سے کی جانب سے جاری کیا گیا کیرے سنجیونی منصوبہ بہت فائدہ مند ہے تعلقہ کے عوام اس منصوبے سے فائدہ اُٹھاسکتے ہیں، حکومت کرناٹک نے تعلقہ کے پانچ تالابوں کی ترقی کیلئے 25لاکھ روپئے فنڈ جاری کیا ہے جس فنڈ کی رقم سے گڈگوارپلی ،یر بولی گان کوٹے کے تالاب کیلئے پانچ لاکھ خرچ کیا جائیگا اور پیدوار برہمن تالاب کیلئے چار لاکھ وینکٹ رامنا کوٹے تالاب کے لئے چار لاکھ جبکہ کونپلی پھنسا چوڈنہلی تالاب کی ترقی کیلئے چھ لاکھ رقم خرچ کرکے تالابوں کی اولین فرصت میں ترقی کی جائیگی ۔
کرشناریڈی نے اپنے خطاب میں الزام لگایا کہ گذ شتہ 68سالوں سے دیہی عوام کی اقتصادی آزادی کو چھین کر اُنہیں صرف رائے دیہی کی آزادی دی گئی ہے حکومتیں اپنی سیاسی مفادات کے لئے کسانوں کے مابین نفرت پھیلانے کی خاطر ذات اور مذہب کا زہر یلا بیچ بورہی ہے وزیر اعلیٰ سدرامیاخشکسالی سے متاثرہ دورے کے نام پر کسانوں کے زخموں پر مرہم لگانے کی بجائے صرف ڈپٹی کمشنرز کو ٹینکروں کے ذریعہ سے پانی سربراہ کرنے کے احکامات جاری کرکے وقت ضائع کررہے ہیں ۔2015میں کسانوں کی خود کشی میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جبکہ بی جے پی کے برسراقتدار آتے ہی ان کے مسائل بے تحاشا بڑھے ہیں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی کسان پالیسی کی بدولت خود کشی پر مجبور ہورہے ہیں اعداد کے مطابق ہر دو گھنٹے میں ملک میں ایک کسان خود کشی کررہا ہے اور حکومتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔
کرشناریڈی نے سرکاری افسروں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ریاست کے تمام دیہاتوں کی ترقی کی طرف زیادہ توجہ دیں، اُسی وقت اس ملک کی ترقی ممکن ہوسکیں گی دیہاتوں کی ترقی کیلئے عوامی نمائندے اور سرکاری افسران کو سامنے آنا ہوگا کیونکہ عوامی نمائندے اور سرکاری افسران ایک سکے کے دو رُخ ہے جب دونوں مل کر ایمانداری سے کام کریں تو دیہاتوں کی ترقی ہوگی اور دیہی علاقوں کے عوام کے جو بھی مسائل ہے وہ فوری حل ہوجائینگےاس موقع پر کونسلر شرنیواس ریڈی تعلقہ پنچایتی صدر شنتما وارد راناگراج ریڈی سمیت کئی لوگ موجود رہے۔