ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پلانی سوامی تحریک اعتماد میں کامیاب اسمبلی میں بھاری ہنگامہ، دھکاپیل، وزیراعلیٰ کو 122 اراکین کی حمایت، شوروغل سے ایوان کی کارروائی میں خلل

پلانی سوامی تحریک اعتماد میں کامیاب اسمبلی میں بھاری ہنگامہ، دھکاپیل، وزیراعلیٰ کو 122 اراکین کی حمایت، شوروغل سے ایوان کی کارروائی میں خلل

Sun, 19 Feb 2017 12:44:46    S.O. News Service

چنئی:18؍فروری (یو این آئی) تمل ناڈو اسمبلی میں آج زبردست ہنگامے اور ڈی ایم کے اراکین کو ایک ساتھ باہر نکالے جانے کے درمیان وزیر اعلیٰ ای کے پلانی سوامی نے اپنی حکومت کی حمایت میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا۔ اسمبلی اسپیکر پی دھنپال نے مسٹر پلانی سوامی کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تجویز کے حق میں112؍اراکین اسمبلی نے ووٹ دیا جبکہ11؍ اراکین اسمبلی نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔گورنر سی ودیا ساگر راؤ نے دو دن پہلے ہی مسٹر پلانی سوامی کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف دلایاتھا۔ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ کی اعتماد کے ووٹ کی تجویز پر بحث کے دوران اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص دراوڑ منیتر کژگھم (ڈی ایم کے ) کے اراکین نے ہنگامہ کرتے ہوئے اسپیکر کا گھیراؤ کر دیا اور ان کی کرسی کو نقصان پہنچا یا، جس کے بعد صدر نے ایوان کی کارروائی ایک بجے تک کیلئے ملتوی کر دی ۔پورے اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ جمہوریت کو برقرار رکھتے ہوئے تحریک اعتماد پر خفیہ ووٹنگ کرائی جانی چاہئے اور ووٹنگ کسی دیگر دن کے لئے ملتوی کردی جانی چاہئے لیکن اسپیکر نے اس مطالبے کو سرے سے مسترد کر دیا، جس کے بعد ڈی ایم کے اراکین نے کافی ہنگامہ شروع کر دیا۔ پنیرسیلوم کی قیادت والے خیمے اور کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ گئے اور خفیہ ووٹنگ کرائے جانے کی مانگ پر نعرے لگانے لگے ۔ ڈی ایم کے رکن ایوان کے بیچوں بیچ پہنچ گئے اور ہنگامہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد وہ اسپیکر کی کرسی تک پہنچ گئے اور ان کا گھیراؤ کر دیا اور ان کے مائیک اور ٹیبل کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے ایجنڈے کے کاغذات پھاڑ دیئے اور انہیں ہوا میں لہراکر پھینک دیا۔اپوزیشن کے لیڈر ایم کے اسٹالن، انا ڈی ایم کے باغی او رہنما پنیرسیلوم اور کانگریس لیڈر کے آر راماسوامی خفیہ ووٹنگ کی مانگ پر ایک ساتھ رہے۔ انہوں نے تحریک اعتماد کو کسی اور دن کے لئے یہ کہتے ہوئے ملتوی کئے جانے کی مانگ کی کہ تمام اراکین اسمبلی کو ان کے انتخابی حلقوں میں جانے کی اجازت دی جانی چاہئے تاکہ وہ عوام کے موقف سے بھی واقف ہو سکیں۔اسپیکر نے اپوزیشن کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ وہ جانتے ہیں کہ ووٹنگ کس طرح کرائی جاتی ہے اور کسی کو بھی ان کے دائرہ اختیار میں دخل دینے کا حق نہیں ہے۔اپوزیشن کے مسلسل ہنگامے کے پیش نظر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی ایک بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔ بعد میں ایوان کی کارروائی1:00؍بجے دوبارہ شروع ہوئی۔ صدر نے یہ کہتے ہوئے ناراضی ظاہر کی کہ وہ ڈی ایم کے اراکین کی پرتشدد حرکتوں سے کافی پریشان ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسمبلی کے ضابطوں کے مطابق ایوان کی کارروائی چلانا ان کی ذمہ داری ہے ۔ اسپیکر نے بتایا کہ ڈی ایم کے اراکین نے ان کی قمیض پھاڑ دی ہے ۔انہوں نے پھٹی قمیض اراکین کو بھی دکھائی، جس پر اسٹالن نے اعتراض ظاہر کیااورکہا کہ وہ اسپیکر کے چیمبر میں جا کر اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرچکے ہیں اور ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے اس لئے اس تبصرے کو اسمبلی کے ریکارڈ سے ہٹا دیا جائے۔بعد میں ا سٹالن نے تحریک اعتمادپر خفیہ ووٹنگ کرانے یا اسمبلی کی کارروائی ایک ہفتہ کیلئے ملتوی کئے جانے کی دوبارہ مانگ کی اور اس پر ڈی ایم کے اراکین نے ہنگامہ بھی کیا۔ایوان میں مسلسل ہنگامہ کے سبب دھنپال نے ڈی ایم کے اراکین کو ایک ساتھ ایوان سے بے دخل کیے جانے کی ہدایت دے دی۔ اسپیکر نے کہاکہ ڈی ایم کے اراکین کے ذریعہ اسمبلی کے ضابطوں کی خلاف ورزی اور کارروائی میں مسلسل رخنہ ڈالنے کے پیش نظر میں ان کی بے دخلی کا حکم دے رہا ہوں۔اس کے بعد انہوں نے وزیر اعلیٰ سے تحریک اعتماد پیش کرنے کے لئے کہا۔وزیر اعلیٰ کے ذریعہ تحریک اعتماد پیش کئے جانے کے بعد ڈی ایم کے اراکین نے اسپیکرکا پھر سے گھیراؤ کر دیا اور ’’چینج،چینج، چینج دی ڈیٹ آف ٹرسٹ ووٹ‘‘کے نعرے لگائے اور دوسری بار اسپیکر کا مائیک توڑ دیا۔مارشل انہیں ایوان سے بے دخل کرنے کی کوشش میں لگے رہے ۔اسپیکر ایوان کی کارروائی 3؍ بجے تک کے لیے ملتوی کرتے ہوئے اپنے چیمبر میں چلے گئے۔ڈی ایم کے اراکین نے مارشلوں کو الجھائے رکھا اور ایوان کے اندر مسلسل مظاہرہ کرتے رہے ۔ انہوں نے ایوان سے باہر جانے سے انکار کر دیا اور وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے ۔


Share: