واشنگٹن،13؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام افغان مہاجرین کی ملک بدری کے لیے انہیں ڈرانے اور دھمکانے کے علاوہ ان سے برا سلوک بھی برت رہے ہیں۔ اس ادارے نے مناسب آواز بلند نہ کرنے پر UNHCRکو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انسانی حقوق کے سرکردہ ادارے ہیومن رائٹس واچ کی ایک تازہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی زبردستی ملک بدری کی خاطر پاکستانی حکام غلط ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس کم ازکم چھ لاکھ افغان مہاجرین واپس اپنے وطن روانہ ہوئے تھے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اس رپورٹ کی تیاری کی خاطر ایسے مہاجرین کے انٹرویو کیے، جو پاکستان کو چھوڑ کر واپس اپنے ملک جا چکے ہیں۔
13 فروری بروز پیر جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کی زبردستی ملک بدری کی خاطر پولیس ان مہاجرین کے ساتھ روزانہ ہی استحصالی رویہ اختیار کر رہی ہے، بغیر وارنٹ گرفتار کر رہی ہے، مہاجرین کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے اور افغان بچوں کے اسکول بند کر رہی ہے۔ ایسے مہاجرین نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا ہے کہ ان حالات میں ان کے پاس واپس وطن جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔76صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی یہ ایجنسی پاکستان سے افغان مہاجرین کی اس برے طریقے سے وطن بدری پر مناسب آواز بلند نہیں کر رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان سے افغان مہاجرین کی زبردستی واپسی کا یہ عمل مناسب نہیں ہے۔ تاہم یو این ایچ سی آر نے ایسے الزامات کو رد کر دیا ہے کہ وہ افغان مہاجرین کی ان کے ملک جبراواپسی میں کوئی معاونت فراہم کر رہی ہے یا اس معاملے پر آواز بلند نہیں کر رہی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ سے وابستہ محقق گیری سمپسن نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، کئی عشروں تک افغان مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دینے کے بعد پاکستانی حکومت نے سن دو ہزار سولہ کے وسط میں ان کی زبردستی واپسی کا عمل شروع کیا تھا، جو دنیا بھر میں کسی ملک سے مہاجرین کی زبردستی واپسی کا سب سے بڑا آپریشن ہے۔
تھنک ٹینک سیمیول ہال کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کابل میں پچاس سے زائد ایسی بستیاں قائم ہیں جہاں اندرونی طور پر نقل مکانی کرنے والے افغان شہری یا پاکستان اور دیگر ممالک سے واپس آنے والے افغان مہاجرین نے رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔ایک 26 سالہ افغان مہاجر نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے ان کے گھر پر چھاپہ مار کارروائی کے نتیجے میں وہ اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ کابل واپس جانے پر مجبور ہوا۔ حکومت پاکستان نے افغان مہاجرین کی ان کے وطن واپسی کی ڈیڈ لائن کو بڑھا کر رواں سال کے آخر تک کر دیا ہے۔ قبل ازیں مہاجرین کی رضا کارانہ واپسی کی یہ ڈیڈ لائن مارچ تک تھی۔کئی عشروں تک پاکستان میں دو ملین سے زائد افغان مہاجرین پناہ گزیں رہے، جن میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ پناہ گزین شامل تھے۔ افغانستان میں شورش کے باعث یہ لوگ اپنے وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے کئی علاقوں میں ابھی حالات سازگار نہیں ہوئے ہیں کہ ان مہاجرین کو ان کے وطن روانہ کیا جا سکے۔