بوداپسٹ16اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے دارالحکومت بوداپسٹ میں قائم نجی سینٹرل یورپین یونیورسٹی کے خلاف اپنے متنازعہ اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے امریکا میں قیام پذیر ہنگیرین نژاد ارب پتی جارج سور وس پر دوبارہ تنقید کی ہے۔وکٹور اوربان کا کہنا ہے کہ سارا کا سارا معاملہ جارج سوروس ہی کے گرد گھوم رہا ہے، عوام کی نظروں سے بچ کر ان کے ہنگری میں موجود ادارے غیر قانونی ہجرت کی حمایت یا مدد کر رہے ہیں۔ ہنگری کے وزیر اعظم نے یہ بیان ایک مقامی اخبار کو دیے اپنے انٹرویو میں دیا، جو ہفتے کے روز شائع ہوا۔ اوربان نے سوروش پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کے متعدد شہری سرگرمیوں سے منسلک ادارے دراصل دیگر مقاصد سر انجام دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں امریکا میں قیام پذیر ہنگیرین نژاد ارب پتی جارج سوروس ہنگری میں اپنے ترجمان، اپنے ذرائع ابلاغ، اپنے حمایتی اور اپنی ہی ایک یونیورسٹی کی مدد سے ایک باقاعدہ نیٹ ورک چلارہے ہیں۔ وزیر اعظم وکٹور اوربان کے بقول ان کے ملک کو اپنا دفاع کرنا ہو گا اور اس کے خلاف لڑنا ہو گا۔ہنگری میں اسی ماہ کے آغاز پر ایک ایسا قانون منظور ہوا ہے، جو بوداپسٹ کی نجی سینٹرل یورپین یونیورسٹی کی بندش کا سبب بن سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سوروس اس یونیورسٹی کے بانی ہیں۔ اس حالیہ پیش رفت کے سبب بوداپسٹ حکومت نہ صرف بین الاقوامی سطح پر تنقید کی زد میں ہے بلکہ ملک میں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پارلیمان میں ایک ایسے بل پر بھی عنقریب بحث ہو گی، جس میں بیرونی مالی امداد سے چلنے والے شہری ادارے متاثر ہو سکتے ہیں۔