واشنگٹن،14؍فروری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو پیر کے روز اپنی اپنی سوچ پر قائم رہے، ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے لیے جاری کارروائی کو سراہا جب کہ ٹروڈو نے اپنے ملک میں شامی مہاجرین کی کامیابی کی تعریف کی۔ٹروڈو نے کینیڈا میں 40000 شامیوں کا خیر مقدم کیا ہے، جب کہ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی شامی مہاجر کے امریکہ میں داخلے پر غیر معینہ مدت تک پابندی چاہتے ہیں؛ جو اْن کی اْس پالیسی کا ایک حصہ ہے جس پر عدالت نے روک لگادی ہے، جس کے تحت مسلمان اکثریتی ملکوں سے آنے والوں کے سفر پر پابندی لگائی گئی ہے، جن کا ماضی میں دہشت گرد حملوں کا ریکارڈ رہا ہے۔جب اْن سے پوچھا گیا آیا کینیڈا میں شامیوں کی موجودگی سے امریکہ کی شمالی سرحد محفوظ رہے گی، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ اخباری کانفرنس کو بتایا کہ ’’آپ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے‘‘۔تاہم، حالیہ دِنوں امریکی امیگریشن کی جانب سے جرائم پیشہ ریکارڈ کے حامل تارکینِ وطن کو پکڑنے اور ملک بدر کرنے کی غرض سے مارے جانے والے چھاپوں کے بارے میں، امریکی سربراہ نے کہا کہ ’’ہم اْنھیں باہر نکال کر دم لیں گے۔ میں وہی کچھ کر رہا ہوں جو میں نے‘‘ صدارتی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا۔ٹرمپ کے بقول ’’ہم جرائم پیشہ افراد، منشیات فروشوں کو ڈھونڈ نکالیں گے۔۔۔ ہم خراب لوگوں کو پکڑیں گے۔ اس عمل سے لوگ بہت ہی زیادہ خوش ہوں گے‘‘۔