ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نچلی عدالت کے ڈیجیٹل ریکارڈ کے متعلق رجسٹرار کو نوٹس جاری سبرامنین سوامی کی درخواست پر فیصلہ ٹلا، بابری مسجد کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

نچلی عدالت کے ڈیجیٹل ریکارڈ کے متعلق رجسٹرار کو نوٹس جاری سبرامنین سوامی کی درخواست پر فیصلہ ٹلا، بابری مسجد کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

Wed, 04 Jan 2017 21:24:43    S.O. News Service

ممبئی۴؍جنوری (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل کی گئی عرضداشت پر آج سماعت عمل میں آئی جس کے دورکنی بینچ کے جسٹس ارون مشراء اورجسٹس امیتوارائے نے نچلی عدالت کی کارروائی کو ڈیجیٹل فارم میں تیار کئے جانے والے معاملے میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو نوٹس جاری کیا ہے اور اس سے اس ماہ کی ۲۳؍ تاریخ کو اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی سماعت ملتوی کردی نیزرام مندر تعمیر کی حمایت میں سبرامنیم سوامی کی جانب سے بطور مداخلت کار کی درخواست پر جمعیۃ کے وکلاء کی شدید مخالفت کے بعد آج بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اخبار نویسوں کو دی ۔
گلزار اعظمی کے مطابق جمعیۃ علماء کی جانب سے آج سینئر وکیل نتیا راما کرشنن اور ایڈوکیٹ ارشا حنیف سپریم کورٹ میں زیر سماعت پٹیشن نمبر 10866-10867/2010پر بحث کرنے کے لئے موجود تھے ، چونکہ ڈیجیٹل ریکارڈ ابھی تک تیار نہیں ہوسکے ہیں لہذ اآج اس معاملے میں بحث نہیں ہوسکی جس کے بعد سپریم کورٹ نے رجسٹرار کو نوٹس جاری کیا اور اس سے ڈیجیٹل ریکارڈ کے متعلق کیا پہل ہوئی ہے ابتک اس کی تفصیلات طلب کی ہیں ۔
خیال رہے کہ۲۳؍ دسمبر ۱۹۴۹ ؁ء کی شب میں بابری مسجد میں مبینہ طور پر رام للا کے ظہور کے بعد حکومت اتر پردیش نے بابری مسجد کو دفعہ ۱۴۵؍ کے تحت اپنے قبضہ میں کرلیا تھا جس کے خلاف اس وقت جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا سید نصیرالدین فیض آبادی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد قاسم شاہجاں پوری نے فیض آباد کی عدالت سے رجوع کیا تھا جس کا تصفیہ گذشتہ برسوں الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرکے دیا گیاتھا ۔متذکرہ فیصلے کے خلاف جمعیۃ علماء نے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی ۔

یاد رہے کہ جمعیۃعلماء بطور عرض گزار سپریم کورٹ میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف زیر سماعت پٹیشن میں شامل ہے ۔

واضح رہے کہ معاملے کی گذشتہ سماعت (۱۶؍ کتوبر ۲۰۱۶) کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس،جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس وی گوپالا گوڈا نے آبزرور کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے نچلی عدالت کے ڈیجیٹل ریکارڈ طلب کیئے تھے لیکن ڈیجیٹل ریکارڈ کی عدم دستیابی کے بعد آج عدالت نے رجسٹرار کو نوٹس جاری کیا ۔ 

  


Share: