بھٹکل یکم جنوری (ایس او نیوز) ایک عام ہندو یا غیر مسلم اور ایک آر ایس ایس کے تربیت یافتہ کٹر ہندتواوادی اور سنگھی ذہنیت میں یہی فرق ہوتا ہے کہ سنگھ پریوار کے پروردہ کسی بھی موقع پر مسلم دشمنی کا زہر اگلنے سے نہیں چوکتے۔بلکہ وہ اس طرح کے موقع کی تلاش ہی میں رہتے ہیں۔
اس کی تازہ ترین مثال شمالی کینرا کے ممبر پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کی ہے جو ہمیشہ سے ہی مسلم دشمنی کا اپناامیج بنائے رکھنے اور کٹر وادی ہندو نوجوانوں کا ہیرو بنے رہنے کے لئے متنازعہ بیانات دیتے رہے ہیں۔ اس بارایم پی نے نوٹ بندی کے اثرات کو لے کر کہا ہے کہ اس کی وجہ سے سب سے زیادہ مسلمان متاثر ہوئے ہیں۔
رکن پارلیمان نے مسلمانوں کے خلاف اپنے اس منفی، زہریلے مگر بچکانہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزار اور پانچ سو کے بڑے نوٹ بند ہوجانے کی وجہ سے مسلمانوں کی زکوٰۃ کی رقم کم ہوگئی ہے جو آگے چل کر دہشت گردانہ کارروائیوں کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ ذبیحہ کے لئے گائیں غیر قانونی طور پر لے جانے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں پر بھی لگام لگ گئی ہے۔اور ملک میں دہشت گردانہ حملے بھی رک گئے ہیں۔
اننت کمار ہیگڈے نے یہ بیان سرسی میں ایک کنڑا فلم "کنچنا"لانچ کرنے کے بعد دیا جس میں انہوں نے کہ نوٹ بندی کے بعد مسلمان حیران اور ششدر رہ گئے ہیں۔کیونکہ ذبیحہ کے لئے جانور لے جانے اور دیگر ایسے نیچ کاروبار سے جو بہت زیادہ رقم وہ کمارہے تھے اورجس کا بڑا حصہ زکوٰۃمیں جمع ہوکر دہشت گردانہ کارروائیوں کے لئے استعمال ہوتا تھا، وہ سلسلہ بند ہوگیا ہے۔اس طرح ملک دشمن سرگرمیوں پر پوری طرح روک لگ گئی ہے۔