ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ناندیڑ میں لاوڈ اسپیکر کے ذریعہ فجرکی اذان پر پابندی کا مطالبہ ، بی جے پی لیڈر پہنچا ضلع کلکٹر آفس

ناندیڑ میں لاوڈ اسپیکر کے ذریعہ فجرکی اذان پر پابندی کا مطالبہ ، بی جے پی لیڈر پہنچا ضلع کلکٹر آفس

Fri, 27 Oct 2017 19:57:15    S.O. News Service

ناندیڑ، 27؍اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ملک میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ اور مقبولیت میں فقدان کی وجہ سے بھگوا اینڈ کمپنی آئے دن کوئی نہ کوئی مذہبی شوشہ چھوڑتی ہی رہتی ہے جس سے ان کی بھگوا رائے سے اتفاق کرنے والے مسرور ہوں اور ووٹ نیز حمایت ان کو ملتی رہے خواہ وہ شیر میسور ٹیپوسلطان ؒ کے متعلق ہذیان گوئی ہو یا سنگیت سوم کا تاج محل کے متعلق بھگوا تال ۔ اسی ذہن کے تحت ناندیڑ میں لاوڈاسپیکر کے ذریعہ فجر کی اذان پر پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ایک لیڈر ڈاکٹرسبھاش ہرنے نے ضلع کلکٹر کو ایک مکتوب لکھا ہے ، جس میں فجر کی اذان پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سبھاش ہرنے اپنے مکتوب میں اعتراض کیا ہے کہ لاوڈاسپیکر کے ذریعہ دی جانے والی اذان سے لوگوں کی نیند میں خلل پڑتا ہے۔ڈاکٹر ہرنے کے مکتوب پر ضلع کلکٹر نے فوری طور پر میونسپل کمشنر اور ضلع ایس پی کو ایک خط لکھا ہے اوراس سلسلہ میں جلد ہی قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے بعد میونسپل انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ بھی اس معاملہ میں جلد ہی کارروائی کرنے جا رہی ہے۔ اذان کے مسئلہ پر کی گئی شکایت سے شہر کے مسلمانوں میں شدید برہمی ہے۔ مسلم کارپوریٹروں کے ایک وفد نے اس سلسلہ میں ضلع کلکٹر سے ملاقات کی اور لاوڈاسپیکر کے ذریعہ فجر کی اذان پر امتناعی حکم نہ لگانے کی گذارش کی ہے۔ وفد نے اس سلسلہ میں صرف مسلمانوں اور مسلمانوں کے شعائر و آثار پر مخصوص نظریہ کے تحت نشانہ لگائے جانے پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ وفد نے اپنے اعتراض میں کہا کہ صبح 6 بجے سے پہلے مسلمان ہی صرف اذان نہیں دیتے ؛بلکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی مندر اور گردواروں اور گرجاگھروں میں لاوؤڈاسپیکر کا ستعمال کرکے اپنی اپنی عبادتیں کرتے ہیں۔وفد نے یہ بھی اعتراض کیا کہ لاوؤڈ اسپیکر کے ذریعہ فجر کی اذان پر پابندی لگانا جمہوری آئین کے خلاف ہے اور ہمارے اس عمل سے کسی کو صوتی خلل بھی نہیں پڑتا؛ لہٰذا پابندی کا حکم لگایا جانا غیر معقول ہے۔ 


Share: