نئی دہلی ،18؍ اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ممنوعہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار مشہور عالم دین مولانا انظر شاہ قاسمی کو پٹیالہ ہاؤس عدالت نے دہشت گردی کے مقدمہ سے ڈسچارج کردیا۔ مہاراشٹر مسلم عوامی کمیٹی کے صدر الیاس کرمانی نے اس فیصلہ پر اپنا ردِّ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی معاملات میں بے قصوروں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے اور عدالتوں سے ان کی باعزت رہائی عمل میں آتی ہے۔ الیاس کرمانی نے جانچ ایجنسیوں سے سوال کیا کہ پھر اصل دہشت گرد کہاں ہے ؟الیاس کرمانی نے عدالت کے ذریعہ مولانا انظر شاہ قاسمی کو دہشت گردی کے الزام سے باعزت بری کیے جانے پر اسے حق و انصاف کی جیت قرار دی مزید کہا کہ ہماری عدالتوں میں ابھی انصاف زندہ ہے ۔الیاس کرمانی نے انظر شاہ قاسمی کی باعزت رہائی پر میڈیا کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت مولانا انظر شاہ کو جھوٹے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اس وقت تمام نیوز چینلس بریکنگ نیوز چلا رہی تھی اور طرح طرح کے الزامات عائدکر رہی تھی جبکہ آج وہ باعزت بری ہوگئے تو میڈیا کیوں خاموش ہے؟ یہی میڈیا تھی جس نے ملزم کو مجرم کا نام دیا ہے اور عدالت سے پہلے اسی میڈیا نے دہشت گردی کا لیبل لگا دیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے اور میڈیا جمہوریت کے اس ستون کو داغدار کرہی ہے۔کمیٹی نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ جھوٹے الزامات سے باعزت بری ہونے والوں کو معقول معاوضہ دے او ر جن جانچ ایجنسیوں کی وجہہ سے ان بے قصور ملزمین کو ہزیمت اٹھانی پڑی ان پر کاروائی کرے۔آخر میں مہاراشٹر مسلم عوامی کمیٹی کے صدر الیاس کرمانی ،نائب صدر ناصر محمد نہدی،سکریٹری خالد سیف الدین،سابق کارپوریٹر عبدالرؤف ،اعجاز زیدی ،ایڈوکیٹ سید اکرم،ابوبکر رہبر،رفعت حسین ،واجد قادری،خواجہ شہاب الدین،خواجہ شرف الدین ،کمیٹی کے ترجمان محمد شعیب القاسمی،سہیل ذکی الدین،افضل حسین قادری،مبین انصاری،سید فرہاج،شیخ مختار،شکیل احمد ، شیخ انور نے مولانا انظر شاہ قاسمی کی دہشت گردی الزام سے باعزت رہائی پر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی ،قانونی امدادی کمیٹی سکریٹری گلزار احمد اعظمی اور وکلاء کو مبارکباد پیش کی۔