ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / مودی حکومت پچھلے دروازے سے زرعی آمدنی پر ٹیکس دوبارہ لادنا چاہتی ہے: کانگریس

مودی حکومت پچھلے دروازے سے زرعی آمدنی پر ٹیکس دوبارہ لادنا چاہتی ہے: کانگریس

Sat, 29 Apr 2017 22:18:15    S.O. News Service

نئی دہلی،29اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت پر زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے کے لئے پچھلے دروازے سے کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک پارٹی مودی حکومت کی اس کوشش کے خلاف احتجاج کرے گی۔کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر غلام نبی آزاد نے ہفتہ کو صحافیوں کو بتایا کہ مودی حکومت کی پالیسیاں شروع سے کسان مخالف اور سرمایہ داروں کے حق میں رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کو جب کوئی کام کروانا ہوتا ہے تو وہ پہلے کسی ادارے یا شخص کے ذریعے کوئی بات سامنے لاتے ہیں، پھر اسے آہستہ سے لاگو کر دیا جاتا ہے، کسانوں پرٹیکس لگانے کے معاملے میں یہی ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے نیتی آیوگ کے رکن وویک دیب رائے نے اس بارے میں بیان دیا۔ اس کے بعد وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بیان دے کر انکار کر دیا کہ کسانوں کو ٹیکس دائرے میں نہیں لائیں گے۔ جب وزیر خزانہ کی جانب سے انکار کر دیا گیا تو وزیر اعظم کے چیف اقتصادی مشیر اروند سبرامنیم کو بیان دینے کی کیا ضرورت تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سبرامنیم نے حکومت کے اشارے پر یہ بیان دیا ہے۔آزاد نے بی جے پی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا بی جے پی پہلے ہی قرض میں دبے کسانوں پر ٹیکس ڈبل بوجھ ڈالنا چاہتی ہے، جن کے پاس بھوک سے مرنے یا خود کشی کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی ڈیزل پر اتنا زیادہ مصنوعات اور مختلف ٹیکس لگا کر کسانوں کی کمر توڑ رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2014 میں ایک لیٹر ڈیزل پر 3.56 روپے کا کل ٹیکس لگتا تھا جو آج بڑھ کر 17.33 روپے ہو گیا ہے۔
 


Share: