امپھال، 13 مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)منی پور کی گورنر نجمہ ہیبت اللہ نے کانگریس کے سبکدوش ہونے والے وزیراعلیٰ ایبوبی سنگھ سے فوری طور پر استعفیٰ دینے کو کہا تھا جس پر ایبوبی سنگھ نے بتایا تھا کہ وہ منگل کو استعفیٰ دیں گے، مگر شام کو پی ٹی آئی کی ملی اطلاع کے مطابق انہوں نے ریاستی گورنر اور ڈپٹی چیف منسٹر کو اپنا استعفیٰ نامہ پیش کردیا ہے تاکہ اگلی حکومت کی تشکیل کا عمل شروع کیا جاسکے۔
استعفیٰ پیش کرنے کے بعد ایبوبی سنگھ نے کہا ہے کہ وہ حکومت بنانے کے لیے تیارہیں۔ان کادعویٰ ہے کہ اکثریتی ممبران اسمبلی کی انہیں حمایت حاصل ہے۔بڑی پارٹی ہونے کے ناطے انہیں پہلاموقع ملناچاہیے۔اوروہ اکثریت ثابت کردیں گے۔ گورنرہاؤس کے اعلیٰ سطحی ذرائع نے بتایاکہ وزیراعلیٰ نے نائب وزیر اعلی اورریاستی کانگریس صدر کے ساتھ کل رات گورنر سے ملاقات کی تھی۔
گورنرہاؤس کے ذرائع نے بتایاکہ ملاقات کے دوران ایبوبی سنگھ نے کانگریس کے 28 ممبران اسمبلی کی فہرست دکھا کر اگلی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ انہوں نے نیشنل پیپلزپارٹی(این پی پی)کے چار اراکین اسمبلی کی حمایت کا بھی دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہاکہ عام کاغذ پر این پی پی کے چارارکان اسمبلی کا نام دیکھ کر ہیبت اللہ نے وزیراعلیٰ سے این پی پی صدر اور ممبران اسمبلی کو لانے کو کہا۔
ذرائع نے بتایا کہ گورنرنے کہا کہ دعوے کو کراس چیک کرنا ان کا فرض ہے اور وہ سادہ کاغذ کے ٹکڑے کوحمایتی خط کے طور پر قبول نہیں کریں گی جب تک وہ این پی پی اراکین اسمبلی سے مل نہیں لیتیں۔
اُدھر بی جے پی قیادت نے اپنے 21 ممبران اسمبلی، این پی پی کے صدراور پارٹی کے چار قانون سازوں، کانگریس کے ایک، ایل جے پی کے ایک اور ترنمول کے ایک رکن اسمبلی کے ساتھ گورنر سے ملاقات کی تھی۔بی جے پی نے دعویٰ کیاتھاکہ اس کے پاس 60 رکنی اسمبلی میں 32 ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔